بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1448ھ 11 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی مد میں دیا گیا مکان مستحق سے واپس لینا


سوال

کچھ مخیر حضرات اپنی زکوٰۃ کی رقم کسی ادارے یا منتظمین کے حوالے کرتے ہیں اور انہیں ہدایت دیتے ہیں کہ اس رقم سے فلیٹ یا گھر تعمیر کروا کر کسی مستحق زکوٰۃ کو اس کا مالک بنا دیا جائے۔

اسی ترتیب کے مطابق، مخیر حضرات کی موجودگی میں زکوٰۃ کی رقم سے تعمیر شدہ ایک گھر مجھے بطور ملکیت دیا گیا۔ گھر کی چابی میرے حوالے کرتے وقت منتظمین نے صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ: ”یہ گھر اب آپ کی ملکیت ہے۔“چنانچہ میں گزشتہ تقریبا چار سال سے اس گھر میں بطور مالک رہائش پذیر ہوں۔

اب چار سال گزرنے کے بعد ادارے کے منتظمین مجھ سے یہ گھر خالی کرانا چاہتے ہیں اور مجھے اس سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کیا شرعا منتظمین یا مخیر حضرات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زکوٰۃ کی مد میں بطور ملکیت دیے گئے اس گھر کو مجھ سے واپس لے لیں؟

اگر کسی مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم سے خریدا یا تعمیر کیا گیا گھر باقاعدہ اس کی ملکیت میں دے دیا جائے، تو کیا بعد میں اسے واپس لینا شرعا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مخیر حضرات نے اپنی زکوٰۃ کی رقم اس مقصد کے لیے ادارے کے منتظمین کے حوالے کی کہ اس رقم سے گھر یا فلیٹ تعمیر یا خرید کر کسی مستحق زکوٰۃ کو اس کا مالک بنا دیا جائے، اور منتظمین نے زکوٰۃ کی رقم سے گھر تعمیر کروا کر اسے باقاعدہ سائل کی ملکیت میں دے دیا، نیز گھر کی چابی دیتے وقت صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا کہ: ”یہ گھر اب آپ کی ملکیت ہے“، اور سائل نے اسے قبول کرلیا، تو شرعا مذکورہ گھر سائل کی ملکیت میں آچکا ہے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے مال کا مالک بنانا ضروری ہے، محض کسی چیز کا استعمال کرنے کے لیے دے دینا کافی نہیں۔ چنانچہ جب مستحق شخص کو زکوٰۃ کی رقم سے  تعمیر کیا ہوا گھر بطورِ ملکیت دے دیا گیا اور اس نے اسے قبول کرلیا، تو وہ اس گھر کا مالک ہوگیا  تھا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو گھر کا مالک بنا دینے کے بعد محض چار سال گزرنے کی وجہ سے منتظمین یا مخیر حضرات کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مذکورہ گھر سائل سے واپس لے لیں یا اسے گھر خالی کرنے پر مجبور کریں، کیونکہ زکوٰۃ کی رقم سے تعمیر کیا گیا گھر جب مستحق زکوٰۃ کو باقاعدہ اس کی ملکیت میں دے دیا گیا تو اس کی ملکیت ثابت ہوگئی، اور بعد میں سابق مالک یا منتظمین کی طرف سے اسے واپس لینا درست نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى) بيان لاشتراط النية."

(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 256، ط: سعيد)

 فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفته، ج: 2، ص: 170، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802101707

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں