بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مستحق کی جانب سے زکوٰۃ وصول کرکے مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں صرف کرنے کا شرعی حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک شخص زکوٰۃ کا مستحق ہے، وہ لوگوں سے زکوٰۃ وصول کر کے اور قبول کرنے کے بعد وہ پیسے گاؤں کی مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں دے دیتا ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم براہِ راست مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں لگانا جائز نہیں، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، نیز تعمیراتی مد میں خرچ کرنے کے لیے کسی شدید ضرورت کے بغیر ”حیلۂ تملیک“ کرنا مکروہ ہے، کیوں کہ اس سے مستحقینِ زکوٰۃ کی حق تلفی ہوتی ہے۔ البتہ صورتِ مسئولہ میں اگر مستحق شخص زکوٰۃ وصول کر کے مالک بننے کے بعد اپنی رضا و خوشی سے وہ رقم مسجد و مدرسہ کی تعمیر میں دے دے تو یہ جائز ہے، لیکن اگر زکوٰۃ دینے کا مقصد ہی حیلہ کر کے تعمیرات میں لگانا ہو تو شدید ضرورت کے بغیر ایسا کرنا مکروہ ہو گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وحيلة التكفين بها التصدق على فقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المسجد...وأخرج السيوطي في الجامع الصغير لو مرت الصدقة على يدي مائة لكان لهم من الأجر مثل أجر المبتدئ من غير أن ينقص من أجره شيء."

(کتاب الزکاة، 2/ 271، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب... قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير... وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا."

(کتاب الزکاۃ، باب زکوۃ الغنم، 2/ 284، ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت ، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه."

(کتاب الحیل،الفصل الثالث في مسائل الزكاة، 6/ 392، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102804

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں