بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذبیحہ کے بارے میں تحقیق و تفتیش کاحکم


سوال

 کیا اس جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں جس میں معلوم ہی نہ ہوکہ  ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ میرے ابو دکان سے مرغی کایا گائے کا گوشت لاتے ہیں،تو خود اُنہیں نہ ہی معلوم ہوتاہے اور نہ ہی دیکھا ہوتا ہے کہ ذبح کیسے کیا ہے، اگر میں پوچھوں، تو کہتے ہیں کہ مسلمان ہے،تو کیا اللہ  کا نام ذبح کرتے وقت نہیں بولیں گے،یہ بول کر ٹال دیتے ہیں۔

تو یہ راہ نمائی فرما دیں کہ ایسا گوشت کھانا کیسا ہے ؟جس میں پتا نہیں ہوتا کہ ذبح کیسے کیا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب اتنا معلوم ہو کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہے، تو اس کا ذبح کیا ہوا جانور شرعاً حلال ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کس طریقے سے کیا اور ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا یا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کی ظاہری حالت سے یہی غالب گمان ہوتا ہے کہ وہ ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، یہی اس کا عقیدہ ہے۔

نیز شریعتِ مطہرہ لوگوں کو حرج اور دشواری میں ڈالنا پسند نہیں کرتی، اس لیے ہر ذابح کے بارے میں یہ تحقیق کرنا کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں، ایک نہایت دشوار امر ہے۔ لہٰذا مسلمان کی ظاہری حالت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا ذبیحہ حلال قرار دیا جائے گا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"إن كان الموضع مما يسكنه أو يسلك فيه مجوسي لا يؤكل وإلا أكل، ولا يتعرض بشأن ترك التسمية عمدا فإن الظاهر من حال المسلم والكتابي التسمية لأنه يعتقدها دينا، وخلاف هذا موهوم لا يعارض الراجح."

(کتاب الصید،ج:6،ص: 476،ط:سعید)

موسوعۃ الفقہ علی المذاہب الاربعۃ میں ہے:

"فإن لم يعلم أسمى الذابح أم لا؟ أو ذكر اسم غير الله أم لا؟ فذبيحته حلال؛ لأن الله تعالى أباح لنا أكل ما ذبحه المسلم والكتابي وقد علم أننا لا نقف على كل ذابح."

(کتاب الذبائح،أركان الذبح،‌‌الركن الثاني: الذابح،الشرط الثاني،ج:19،ص: 679،ط:دار التقوى، القاهرة - مصر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101592

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں