بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلم ممالک میں رہتے ہوئے مصنوعات کے حلال و حرام ہونے کی تحقیق کا حکم


سوال

کیا مسلمان ملک جیسے عرب ممالک میں رہتے ہوۓ بھی مصنوعات کے حلال ہونے کی تحقیق کرنی چاہیے؟ جیسے ہاتھوں اور چہروں پر لگانے والے لوشن کے اجزاء میں اگر الکوحل اور گلیسرین شامل ہو تو اس کے حلال ہونے کی تحقیق کرنا لازم ہے؟ اور اس کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

آدمی جس ملک میں بھی ہو خواہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ملک ہو،وہاں پر موجود  مصنوعات کو تحقیق  کرنےکے بعد استعمال   کرنا چاہیے،اس لئے کہ مسلم ممالک میں بھی بہت سے بین الاقوامی برانڈز  کام کرتے ہیں، ان کی بہت سی اشیاء بیرونِ ملک (یعنی غیر مسلم ممالک) سے درآمد کی جاتی ہیں، خاص طور پر وہ مصنوعات جو غیرمسلم ممالک سےدرآمد(Import)کی جاتی ہو  اور ان سے متعلق یہ شبہ بھی ہوکہ اس میں  حرام جلاٹین، الکوحل یا کوئی دوسرے حرام اجزاء  کا استعمال کیا جاتا ہے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر ہاتھ، چہرے اور جسم  پر استعمال کی جانے والی مصنوعات (face products)  میں اگر تحقیق کے بعد یہ معلوم ہو کہ ان میں حرام  الکوحل   شامل ہیں  تو اس صورت میں ایسی مصنوعات کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اور اگر ان مصنوعات میں حرام  الکوحل شامل ہونا ثابت  نہ ہو ، تو ایسی مصنوعات کا خارجی استعمال جائز ہوگا۔ 

الکوحل کے حرام ہونے یا نہ ہونے کی تفصیل درج ِ ذیل ہے:

 الکوحل کی تین قسمیں ہیں:

(1) ایک وہ الکوحل جو منقیٰ، انگور،کشمش یا کھجور  سےحاصل کیا گیا ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے، اور اس کا داخلی وخارجی استعمال اور اس کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔

(2) دوسرا وہ الکوحل جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جَو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کیا گیا ہو۔

(3) تیسری قسم وہ الکوحل ہے جو کیمیکل سے بنتا ہے،آخری دونوں قسموں کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے، بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہواور یہ پاک ہے ۔

 عام طور پر فیس واش،   باڈی اسپرے اور پرفیوم وغیرہ میں جو الکوحل استعمال ہوتی ہے وہ عام طور پر  انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر حلال اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک  تحقیق سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں  پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب )سے حاصل شدہ الکوحل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو  ناجائز اور حرام نہیں کہا جائے گا، تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."

(كتاب الأشربة، حکم الکحول المسکرة، ج:3، صفحہ:506، ط:دارالعلوم كراتشي)

وفيه أيضاً:

"وإنما نبهت علی هذا لأن الکحول المسکرة الیوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض کیمیاوية أخری ولاتستغنی عنها کثیر من الصناعات الحدیثة، وقد عمت بها البلوی واشتدت إليها الحاجة، والحکم فيها علی قول أبي حنیفة سهل؛ لأنها إن لم تکن مصنوعةً من النئي من ماء العنب فلا یحرم بیعها عنده، والذي یظهر لي أن معظم هذه الکحول لاتصنع من العنب، بل تصنع من غیرها، وراجعت له دائرة  المعارف البریطانیة المطبوعة 1950م (1/544) فوجدت فیها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الکحول، فذکر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعیر، والجودار،وعصیرأناناس (التفاح الصوبری)، والسلفات، والکبریتات، ولم یذکر فیه العنب والتمر، فالحاصل أن هذه الکحول لو لم تکن مصنوعةً من العنب والتمر فبیعها للأغراض الکیمیاویة جائز باتفاق بین أبي حنیفة وصاحبیه، وإن کانت مصنوعةً من التمر أو من المطبوخ من عصیر العنب فکذلک عند أبي حنیفة، خلافاً لصاحبیه، ولو کانت مصنوعةً من العنب النئي فبیعها حرام عندهم جمیعاً، والظاهر أن معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا تمر، فینبغي أن یجوز بیعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفیة جمیعاً."

(كتاب الأشربة، حکم الکحول المسکرة، ج:1، ص:551، ط: دارالعلوم كراتشي)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌الأصل ‌في ‌الأشياء ‌الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل."

(كتاب الأشربة، ج:6، صفحہ:459، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144607101554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں