
ایک مسلمان لڑکا ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ ایک گھر میں رہتا ہے۔ کیا اس مرد کی بہن یا بہنوئی اُس کے گھر میں رات گزار سکتی ہیں؟
واضح رہے کہ اسلام میں نامحرم مرد و عورت کے اختلاط سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ نامحرم خواتین سے بلا ضرورت بات چیت کرنا، ان کی طرف دیکھنا، یا ان کے پاس جانا اور ان سے تنہائی میں ملنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ بالخصوص ایسا ماحول جہاں اجنبی مرد و عورت اکٹھے کسی گھر میں رہیں، اسلام میں سختی سے منع ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس (تنہائی میں) جانے سے بچو! ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ شوہر کا رشتہ دار ہو؟ (یعنی دیور، جیٹھ وغیرہ ہو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیور (وغیرہ سے تنہائی) موت ہے۔“
ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، کیونکہ ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔“
ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”خبر دار! کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ ٹھہرے، مگر یہ کہ وہ اس کا شوہر ہو یا اس کا محرم ہو۔“
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسلمان لڑکے کا ایک اجنبیہ عیسائی لڑکی کے ساتھ تنہا ایک ہی گھر میں رہنا شرعاً ناجائز اور فتنہ کا باعث ہے۔ جب خود اس کا وہاں قیام جائز نہیں، تو اس کے بہن یا بہنوئی کا اس گھر میں قیام کرنا ان کے اس عمل پر راضی ہونے کی علامت ہے نیز یہ ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بھی ہے لہذا اس مسلمان لڑکے کی بہن یا بہنوئی کا اس گھر میں رات گزارنا شرعاً درست نہیں۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن عقبة بن عامر ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء»! فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: الحمو الموت.
وفي الباب عن عمر، وجابر، وعمرو بن العاص. حديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح. وإنما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان."
(أبواب الرضاع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات، رقم الحدیث:1171، ج:2، ص:462، ط:دار الغرب الإسلامي بيروت)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
"عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم»."
(كتاب السلام، باب تحريم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها، رقم الحدیث:2171، ج:7، ص:7، ط:دار الطباعة العامرة تركيا)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102003
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن