
میرے والد نے 2016 میں ایک پلاٹ 12 لاکھ روپے کا خریدا، جس میں سے چھ لاکھ میرے بہنوئی نے دیے، یعنی: وہ بھی والد کے ساتھ والد کی اجازت سے پلاٹ میں شریک ہو گئے، ابھی وہ پلاٹ اور اس کی فائل میرے والد نے میرے حوالے کر دی کہ یہ آپ کا حصہ ہے تو ابھی میرے بہنوئی کا جو اس پلاٹ میں حصہ ہے وہ میرے اوپر لازم ہے دینا؟ یا میرے والد پر لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد چوں کہ پورے پلاٹ کے مالک نہیں ہیں، بلکہ محض آدھے پلاٹ کے مالک ہیں، اس لیے ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ پورا پلاٹ آپ کو مالک بنا کر دے دیں، پھر یہ ہبہ والد کے آدھے پلاٹ میں بھی نافذ نہیں ہو گا؛ اس لیے کہ مشترکہ پلاٹ کے ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تقسیم شدہ ہو اور سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ پلاٹ تقسیم شدہ نہیں تھا( اگر واقعتًا ایسا ہی ہے اور پلاٹ تقسیم شدہ نہیں تھا، یعنی: والد نے اپنا آدھا پلاٹ نشان لگا کر الگ کر کے نہیں دیا) تو یہ ہبہ درست نہیں ہوا اور یہ پلاٹ ابھی آپ کے والد ہی کی ملکیت میں ہے۔
لہذا یہ ساری صورت حال والد سے بیان کر دیں، پھر اگر وہ یہ پلاٹ آپ کو ہبہ کرنا چاہتے ہوں تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی یہ کہ آپ کے والد آپ کے بہنوئی سے ان کا آدھا حصہ خرید لیں اور رقم کی ادائیگی کا وعدہ کر لیں، پھر آپ کو پورا پلاٹ ہبہ کر دیں۔
دوسری صورت یہ کہ وہ اپنے حصے کا آدھا پلاٹ آپ کو تقسیم کر کے دے دیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة، وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يصح، هكذا في النهاية ...
وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة ... ومنها أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك للواهب. كذا في البدائع."
(كتاب الهبة، الباب الأول، ج : 4 ، ص : 374 ، ط : دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100785
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن