
1۔ ہمارا ایک مشترکہ وراثتی گھر ہے، جو دادا کے نام پر ہے۔ دادا کی زندگی میں اور انتقال کے بعد ان کے ایک یا دو بیٹوں نے اس گھر میں تعمیراتی کام کیا۔ تعمیر پر جتنا خرچہ ہوا ہے، اس کا ہمیں صحیح طرح پتہ نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؛ اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ تعمیر دیگر ورثاء کی اجازت سے کی تھی یا بغیر اجازت کے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ورثاء کی اجازت تھی کیونکہ اس وقت تعمیر کی ضرورت تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اس کا کوئی ریکارڈ مل جائے، تو جن ایک یا دو بیٹوں نے خرچہ کیا ہے، کیا وہ دیگر ورثاء سے اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟
2۔ کیا ورثاء وراثتی مکان کے ہر جزء میں شریک اور حصہ دار ہوتے ہیں؟ کیا کوئی وارث یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ "چونکہ میں اس منزل میں طویل عرصے سے رہ رہا ہوں، یا میں نے اس کی تزئین و آرائش میں پیسہ خرچ کیا ہے، لہٰذا یہ منزل میری ملکیت ہوگی"؟
3۔ تقسیمِ وراثت سے پہلے کوئی وارث اپنا حصہ چھوڑ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر چھوڑ سکتا ہے تو اس کے حصے کی تقسیم دیگر ورثاء میں کیسے کی جائے گی؟
4۔ اگر کسی وراثتی مکان میں بعض ورثاء رہتے ہوں اور بعض ورثاء باہر رہتے ہوں، تو کیا باہر رہنے والے ورثاء کرائے کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟
5۔ اگر کوئی وارث تقسیم کا مطالبہ کرے تو دیگر ورثاء کی شرعاً کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اگر اس طرح تقسیم ہو جائے کہ ان میں بعض ورثاء غصے یا ناگواری کا اظہار کریں، یا کوئی ایسا رویہ اختیار کریں جو بدمزگی کی طرف لے جانے والا ہو، تو شرعاً اس تقسیم کا کیا حکم ہے؟
6۔ ایک مشترکہ وراثتی گھر میں اگر کوئی وارث اس گھر کی چھت کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر جزوی یا مکمل طور پر اس طرح اپنے استعمال میں لائے کہ دیگر ورثاء کے لیے اس گھر کی چھت استعمال کرنے کی گنجائش نہ رہے، تو شرعاً اس طرح کرنا کیسا ہے؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں جن بیٹوں نے مشترکہ مکان میں دیگر ورثاء کی اجازت سے تعمیر کی ہے ،ان کو یہ حق حاصل ہے کہ تعمیرات پر جتنا خرچہ آیا ہے ،دیگر ورثاء سے ان کے حصے کے بقدراس کا مطالبہ کریں ۔
2۔ورثاء وراثتی مکان کے ہر ہر جزء میں شریک ہوتے ہیں ۔
کسی ایک وارث کا یہ دعوی کرنا" کہ چونکہ میں اس منزل میں بہت عرصے سے رہ رہاہوں ،یا میں نے اس کی تزئین وارائش کی ہے لہٰذا یہ میری ملکیت ہوگی"باطل ہے ۔بلکہ اگر اس نے دیگر ورثاء کی اجازت سے تزئین وارائش کی تھی ،تو جتناخرچہ آیاہے ،اس خرچے کا مطا لبہ کرسکتاہے ۔اور اگر دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تزئین ،وارائش کی تھی تو جتنا خرچہ آیا ہے اس کے لینے کا بھی مطالبہ نہیں کرسکتاہے۔
3۔وراثت کی تقسیم سے پہلے کوئی وارث اپنا شرعی حصہ بلا معاوضہ نہیں چھوڑ سکتاہے ،اگر کسی وارث نے چھوڑدیا تو وہ شرعا معتبر نہیں ہے۔
4۔اگر کسی وراثتی مکان میں بعض ورثاء رہائش پذیر ہوں ،اور دیگر بعض ورثاء اس مکان کے علاوہ کسی اور جگہ رہتےہوں ،تو باہر رہنے والے ورثاء مکان میں رہائش پذیر ورثاءسےگزشتہ دنوں کےکرایہ کامطالبہ نہیں کرسکتے ،البتہ باقاعدہ کرایہ داری کا معاہدہ کرکے مستقبل میں کرایہ کا مطالبہ کرسکتےہیں۔اور اس کی تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر وارث کو اپنے اپنے حصے کے تناسب سےکرایہ ملے گا ،یعنی اگر باہر رہنے والے ورثاء میں صرف بھائی تھے ،تو ہر ایک کو برابر حصہ ملے گا،اور اگر بھائیوں کے ساتھ بہنیں بھی تھیں تو بھائیوں کو بہنوں کی بنسبت دوگنا ملے گا۔
5۔میراث کی تقسیم میں حتی الامکان جلدی کرنی چاہے،بغیر کسی مجبوری کے اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے؛ اس لئے کہ آگے چل کر بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ،اور اگر کوئی وارث تقسیم کا مطالبہ کرے تودیگر ورثاء کے لیے جائز نہیں ہے، کہ وہ تقسیم کے مطالبہ پر ٖغصہ کریں ،یا ایسا رویہ اختیار کریں کہ وہ بد مزگی کی طرف لےجانے والا ہو۔بلکہ ان کے لیے ضروری ہے کہ اس کو جلد از جلددرست طریقہ سے تقسیم کردیں ،تاکہ ہر ایک کو میراث میں سے اپنا اپنا حصہ مل جائے ،اور مطالبہ کے باوجود تقسیم نہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
6۔ مشترکہ وراثتی گھر میں کسی وارث کا دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر گھر میں ایسا تصرف کرنا کہ اس سے دیگر ورثاءکاحق فوت ہوجائے،شرعا جائز نہیں ہے۔لہذا اگر کوئی وارث اس مشترکہ گھر کی چھت کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر جزوی یا مکمل طور پر اس طرح اپنے استعمال میں لائے کہ دیگر ورثاء کے لیے اس گھر کی چھت استعمال کرنے کی گنجائش نہ رہےجائزنہیں۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"لو كانت دار كبيرة مشتركة بين اثنين وكانت محتاجة للتعمير فقال أحد الشريكين للآخر: عمرها من مالك فعمر الشريك فله من الشريك الآخر ما يصيب حصته من نفقات التعمير."
(الكتاب العاشر الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة...، ج:3، ص: 314، ط: دارلجیل )
فتاوی شامی میں ہے:
"والذي تحصل في هذا المحل أن الشريك إذا لم يضطر إلى العمارة مع شريكه بأن أمكنه القسمة فأنفق بلا إذنه فهو متبرع."
(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج:4، ص:334، ط: ایچ ایم سعید )
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"(سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟
(الجواب) : الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت."
(کتاب الدعوی ، ج:2، ص: 26، ط: دار المعرفة)
فتاوى هنديہ میں ہے:
’’(وأما) (ركنها) فالإيجاب والقبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة.‘‘
(كتاب الإجارة، الباب الأول في تفسير الإجارة.....، ج:4، ص: 409، ط: دارالفکر)
و فیہ ایضا :
’’وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.‘‘
(كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج:4، ص: 448، ط: دارالفکر)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكاممیں ہے:
"تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما".
(الكتاب العاشر الشركات،الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،ج:3، ص: 26، ط:دارالجیل )
فتاوی شامی میں ہے:
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول."
( كتاب القسمة، ج:6، ص:260، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره."
(کتاب الشرکة،الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها،الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج:2،ص:301،ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100237
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن