
پانچ بھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے کارخانوں اور دکانوں کی صورت میں،ان بھائیوں میں سے کچھ کارخانوں میں جاتے ہیں اور کچھ دکانوں میں جاتے ہیں۔ان کارخانوں اور دکانوں سے حاصل ہونے والا نفع اجتماعی آمدنی شمار ہوتا ہے، جس سے گھر میں خرچ ہوتا ہے۔ایک بھائی کی سرکاری ملازمت تھی،ابھی وہ بھائی ریٹائر ہوچکا ہے،آدھی تنخواہ کے برابر اس کوپنشن ملتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بھائی کو ملنے والی پنشن بھی اجتماعی آمدنی میں شامل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟واضح رہے اس بھائی کے ذمہ گھر کے کام کاج ہیں ،جس کو وہ اچھے طریقے سے سرانجام دیتا ہے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ بھائی کو حکومت کی جانب سے ملنے والی پنشن اس کی ذاتی ملکیت ہے،اس لیے اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس کو مشترکہ آمدنی میں شامل کرنا چاہے،تو ٹھیک ہے،ورنہ اس کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل فنقول وبالله التوفيق حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة وكذلك حكم الحق الثابت في المحل عرف هذا فنقول للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."
(كتاب الدعوى،فصل في بيان حكم الملك والحق الثابت في المحل،ج: 6،ص: 263،ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100986
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن