بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کاروبار میں بعض شرکاء کا دوسرے کی اجازت کے بغیر مقررہ حصے سے زائد رقم لینا


سوال

ہمارے والد صاحب کا آج سے 12، 13 سال پہلے انتقال ہوا، ہم نے مفتی صاحب سے زبانی طور پر پوچھا تھا، انہوں نے کہا آپ کی والدہ کا اٹھواں حصہ ہے، باقی جائیداد آپ سب بھائیوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگی، ہم کل چار بھائی ہیں، ہماری کوئی بہن نہیں ہے، ہم نے والدہ صاحب کے حصہ کا حساب لگاکر ان  کا حصہ ان کو دے دیا، البتہ جو دکانیں والد صاحب نے ان کے نام پر خریدی تھیں، ہم ان کا کرایہ ان کو دیتے رہے اور ابھی تک دیتے ہیں، اور ہم چار بھائیوں نے اپنے والد کے کاروبار کو مشترکہ طور پر سنبھالا ہوا ہےاوریہ طے کیا کہ ہر بھائی کو مقررہ فیصد نفع ملے گا ، جب کاروبار شروع ہوا اور کافی عرصہ چلا تو کچھ بھائیوں کی ضروریات بڑھنے کی وجہ سے انہوں نے دوسرے بھائیوں سے زیادہ لینا شروع کیا، انہوں نے ہمیں اطلاع بھی نہیں دی اور نہ ہی حساب کتاب میں شمار کروایا، اب میں نے ان بھائیوں سے کہا کہ آپ نے جو بھی لیا ہے اس کا حساب تو کرو ، لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان بھائیوں کا مشترکہ کاروبار میں دوسرے شرکاء کی اجازت کے بغیر اضافی  رقم لینا درست ہے؟ اور کیا ان کا حساب کتاب کے لیے آمادہ نہ ہونا درست ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ شراکت کے معاملے میں آپس میں طے شدہ شرائط کے مطابق نفع کی تقسیم ضروری ہے،  خلاف ورزی کرنا شرعاً جائز نہیں،ہر شریک دوسرے کے حصے میں اجنبی ہے، اس لیے کسی شریک کے لیے  جائز نہیں کہ وہ دوسرے شریک کا حق روکے، اگر کسی نے روکا اور ادا نہ کیا تو روزِ قیامت سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

لہذ اصورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً درست ہے کہ  سائل کے کچھ بھائیوں نے خفیہ طور پردو سرے بھائیوں کی اجازت کے بغیر   اپنے مقررہ حصہ سے زائدحصہ وصول کیا ہےتو بھائیوں کا ا س طرح کرنا جائز نہیں تھا،لہذا سب  بھائیوں پر لازم  ہے کہ آپس میں بیٹھ کر باہمی رضامندی سے  کاروبار کا مکمل حساب کرکے ہربھائی کاجتنا حصہ بنتاتھا ،وہ حصہ ان کے حوالے کردیا جائے،اور جن بھائیوں  نے اپنے حصہ سے زائد لیا ہےان   پر لا زم ہے کہ زائد حصہ واپس کریں۔

زیادہ حصہ لینے والے بھائیوں کا حساب کتاب پیش کرنے پر آمادہ نہ ہونا شرعاً ناجائزہے، کیونکہ شراکت میں ہر شریک پر لازم ہے کہ وہ اپنی لی ہوئی رقم کا مکمل  حساب پیش کرے، حساب سے فرار اختیار کرنا یا حق داروں کو ان کا پورا حق نہ دینا شرعاً جائز  نہیں ۔

قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوْا لَا تَأۡكُلُوْا أَمْوَلَكُم بَيْنَكُم بِالْباطِلِ."[النساء: 29]

تفسیر بغوی میں ہے:

"قوله تعالی:( یاأیھا الذین آمنوا لاتأكلوا أموالکم بینکم بالباطل) بالحرام یعني بالربا والقمار والغصب والسرقة والخیانة ونحوها."

(ج: 3، ص: 199، النساء: 29، ط: دار طیبة)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :

"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره."

(کتاب الشرکہ، ج:2، ص:301، ط:رشیدیة)

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97،96، ص:27، ط:نور محمد)

المبسوط السرخسی میں ہے:

"فشركة الملك) ‌أن ‌يشترك ‌رجلان ‌في ‌ملك ‌مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه."

(‌‌كتاب الشركة، ج:11، ص:151، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101380

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں