
میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی شادی سے تین بیٹے اور دوسری شادی سے بھی تین بیٹے ہیں۔ اس طرح کل چھ بھائی ہیں۔ ان چھ بھائیوں کی آمدنی مشترکہ تھی۔ اسی مشترکہ آمدنی سے حکومت کی چار ملازمتیں خریدی گئیں۔ ان چار ملازمتوں میں سے ایک ملازمت والد صاحب نے اپنے معذور بھائی کے بیٹے کے نام کر دی، ایک ملازمت فروخت کر دی گئی، اور دو ملازمتیں دوسری والدہ کے بیٹوں کے نام کر دی گئیں۔ جب یہ ملازمتیں ان کے نام تھیں تو ان کی آمدنی چھ بھائیوں میں تقسیم کی جاتی تھی۔ کچھ عرصے بعد جب یہی دو ملازمتیں پہلی والدہ کے بیٹوں کے نام کر دی گئیں تو انہوں نے آمدنی سب میں تقسیم کرنا بند کر دی۔ اب جن کے نام یہ ملازمتیں ہیں وہ پوری آمدنی خود وصول کر رہے ہیں اور دوسرے بھائیوں کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دے رہے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہر بھائی کی آمدنی الگ الگ ہے اور سب علیحدہ علیحدہ رہتے ہیں۔
ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ جن دو بھائیوں کے نام یہ سرکاری ملازمتیں ہیں، کیا ان پر شرعاً لازم ہے کہ وہ دوسرے بھائیوں کو بھی ان ملازمتوں کی آمدنی میں سے حصہ دیں یا نہیں؟
یہ بات واضح رہے کہ یہ ملازمتیں کسی ذاتی قابلیت یا اہلیت کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوئیں، بلکہ مشترکہ آمدنی سے خریدی گئی تھیں، یہ ملازمتیں ایسی نوعیت کی ہیں جن میں خاص صلاحیت کی شرط نہیں ہوتی، مثلاً اسکول میں چوکیداری یا کسی سرکاری ادارے میں معمولی خدمت جیسے پانی بھرنا وغیرہ۔ مزید یہ کہ اب ان ملازمتوں پر باقاعدہ ڈیوٹی بھی نہیں لی جاتی، کیوں کہ متعلقہ جگہیں غیر آباد ہو چکی ہیں، اس کے باوجود تنخواہ جاری ہے جو صرف دو بھائی وصول کر رہے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ سرکاری ملازمتیں اس وقت جن بھائیوں کے نام پر سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہیں، قانوناًتنخواہ وصول کرنے کا حق انہی کو حاصل ہے، اس لیے شرعاً ان پر یہ لازم نہیں کہ وہ ان ملازمتوں کی آمدنی میں سے دیگر بھائیوں کو حصہ دیں۔اس سے پہلے جب یہ ملازمتیں بعض بھائیوں کے نام تھیں اور وہ اپنی خوشی سے تنخواہ تمام بھائیوں میں تقسیم کرتے تھے، تو یہ ان کی طرف سے تبرع و احسان تھا، جس پر وہ اجر کے مستحق ہوئے۔
البتہ یہ واضح رہے کہ رشوت کے ذریعے ملازمت حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ رشوت دینا اور لینا دونوں کبیرہ گناہوں میں شامل ہیں۔ چوں کہ یہ ملازمتیں ذاتی اہلیت یا قانونی تقرری کے بجائے پیسوں کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں، اس لیے اس عمل پر تمام متعلقہ افراد کے لیے سچی توبہ اور استغفار لازم ہے۔اسی طرح ڈیوٹی کے بغیر تنخواہ لینا جائز نہیں۔ شرعاً اجرت اسی کام کے عوض حلال ہوتی ہے جو معاہدے کے مطابق انجام دیا جائے۔ اگر کسی سرکاری ادارے کے ساتھ معاہدے میں مخصوص اوقاتِ کار اور ذمہ داریاں طے تھیں تو ان کی پابندی ضروری ہے۔اگر وہ جگہیں جہاں ڈیوٹی دی جانی تھی غیر آباد یا غیر فعال ہو چکی ہیں اور عملاً کام لیا ہی نہیں جا رہا، تو ایسی صورت میں متعلقہ سرکاری ادارے کو اس کی اطلاع دینا شرعاً لازم ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، قال: «لعن رسول الله الراشي والمرتشي» رواه أبو داود، وابن ماجه.
قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به."
(كتاب الإمارة والقضاء، ج:6، ص:37، ط:دار الفکر)
فتاوی ٰشامی میں ہے:
"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.
(قوله: وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف) من إمامة وخطابة وأذان وفراشة وبوابة، ولا على وجه البيع أيضا؛ لأن بيع الحق لا يجوز كما في شرح الأدب وغيره وفي الذخيرة: أن أخذ الدار بالشفعة أمر عرف بخلاف القياس فلا يظهر ثبوته في حق جواز الاعتياض عنه. اهـ. أقول: والحق في الوظيفة مثله والحكم واحد بيري."
(کتاب البیوع، مطلب في خلو الحوانيت، 518/4، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.
(قوله للخدمة) أي لخدمة المستأجر وزوجته وأولاده ووظيفته الخدمة المعتادة من السحر إلى أن تنام الناس بعد العشاء الأخيرة۔"
(كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، 69/6، ط:سعید)
درالحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
"الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة. ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل. أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة، فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة مثال ذلك كما لو آجر إنسان نفسه من آخر ليخدمه سنة على أجر معين فخدمه ستة أشهر ثم ترك خدمته وسافر إلى بلاد أخرى ثم عاد بعد تمام السنة وطلب من مخدومه أجر ستة الأشهر التي خدمه فيها؛ فله ذلك وليس لمخدومه أن يمنعه منها بحجة أنه لم يقض المدة التي استأجره ليخدمه فيها."
(كتاب الإجارة، الباب الأول في بيان الضوابط العمومية للإجارة، المادة: 425، ج: 1، ص: 458، ط: دارالجیل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100003
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن