بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مشت زنی کے عادی شخص کے اعمال کا حکم


سوال

مشت زنی کرنے کا کیا حکم ہے؟

کیااس سے انسان کےاعمال ضائع ہو جاتے ہیں؟ کیا اس خباثت کے عادی شخص کی عبادت قبولیت سے دور ہوجاتی ہے؟

جواب

1:مشت زنی کبیرہ گناہ ہے، اور اس کی حرمت قرآنِ کریم اوراحادیث  سے ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} [المؤمنون:۵ تا ۸]

ترجمہ: ”اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔ “

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ، اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰئکَ هُمُ الْعٰدُوْنَ}، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے‘‘۔ (از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ) (معارف القرآن)

نیز کئی احادیث میں اس فعلِ بد پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے )۔

شعب الایمان میں ہے:

"عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره. تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا. قال البخاري في التاريخ."

(باب فی تحريم الفروج وما يجب من التعفف عنها، ج:4، ص:378، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"استدل (الزيلعي شارح الكنز) على عدم حله بالكف بقوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية، وقال: فلم يبح الاستمتاع إلا بهما: أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما اهـ قلت: فإن لم يوجد سند الأحاديث محتجًّا به فلايضر المستدل، فإن الدعوی ثابتة بالقرآن المجيد، وجعله صاحب الدر المختار مكروهًا تحريمًا."

(کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم، ومالا یفسدہ، ج:2، ص:399، ص:سعید)

2:واضح رہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کسی کا نیک عمل ضائع نہیں فرماتےسوائے اس کے کہ وہ کفر یا شرک اختیار کرے، چنانچہ قرآن مجید  میں ہے کہ "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ" جو شخص ذرہ برابر خیر کرے گا اسے دیکھے گا یعنی پائے گا۔ایک دوسرے مقام پر ہے: لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمٰلِكُمْ شَيْــــًٔا  یعنی:خدا تعالیٰ تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرےگا۔ ایک تیسری آیت میں      إِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ یعنی: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا، البتہ بعض حدیثوں میں جو اعمال کے قبول نہ ہونے کا ذکر ہے (مثلا شراب پینے سے، یا کاہن کے پاس آنے سے ، نماز وغیرہ قبول نہیں ہوتی) اس سے مراد قبول رضا ہے یعنی گناہ گاروں کےنیک اعمال  قبول ہوں گے اور ان کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گے اور ان کا اجر بھی ملے مگر اللہ تعالیٰ ان گناہ گاروں سے راضی اور خوش نہیں ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ بعض گناہ اپنی شدت سے اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کا وزن نیک اعمال کے وزن سے بڑھ جاتا ہے تو اگرچہ نیک اعمال  کے اجر و ثواب بھی ان کو ملے مگر ان کا مجموعی وزن اس شدید گناہ کے وزن سے کم رہ کر بے اثر، بے فائدہ اور بے حقیقت ہوجاتا ہے، اس کو قبول نہ ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

لہذا مذکورہ وضاحت کی رو سے مشت زنی(اگرچہ  گناہ ہے)  کرنے   والے کے نیک اعمال( چاہے فرائض ہوں یا نوافل) قبول ہوتے  ہیں۔ 

صحیح مسلم میں ہے:

"عن صفية، عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ‌أتى ‌عرافا فسأله عن شيء، لم تقبل له صلاة أربعين ليلة."

(كتاب الآداب، باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان، ج:4، ص:1751، ط:دار احياء التراث العربى)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"ففي الحديث ‌إشارة ‌إلى ‌أن ‌أعمال التائب لها درجة كمال القبول يشير إليه قوله سبحانه: {إنما يتقبل الله من المتقين} [المائدة: ٢٧] .

قال النووي: وأما عدم قبول صلاته فمعناه أنه لا ثواب له فيها، وإن كانت مجزئة في سقوط الفرض عنه، ولا يحتاج معها إلى إعادة."

(کتاب الطب والرقى، باب الكهانة، ج:7، ص:2905، ط:دار الفكر)

معارف السنن میں ہے: 

"ثم القبول قسمان، أحدهما: أن يكون الشئي مستجمعا للأركان والشرائط، ويرادفه الصحة والإجزاء. والثاني: كون الشئي يترتب عليه من وقوعه عند الله جل ذكره موقع الرضا ويترتب عليه الثواب والدرجات. وهذه المرتبة بعد الأولى."

(أبواب الطهارة، باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور، ج:1، ص:90، ط: مجلس الدعوة والتحقيق الإسلامى)

کفایت المفتی میں ہے:

”حدیثوں میں عدم قبول اعمال کا جو ذکر آیا ہے  اس  سے مراد  بھی یہی قبول رضا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعض گناہ اپنی شدت سے اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کا وزن طاعت کے وزن سے بڑھ جاتا ہے تو اگرچہ طاعات کے اجور اور ثواب بھی ملیں مگر ان کا مجموعی وزن اس شدید گناہ کے وزن سے کم رہ کر بے اثر اور بے فائدہ اور بے حقیقت ہوجاتا ہے۔ اس کو قبول نہ ہونے سے تعبیر کردیا گیا ہے۔“

(کتاب العقائد، ج:1، ص:355، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں