بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ذو الحجة 1447ھ 11 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمانوں کےکفن ودفن اور دیگرسماجی حقوق کوممبرشپ کارڈ کےساتھ مشروط کرنےاور اس کےلیے ماہانہ فیس لینے کاحکم


سوال

 ہم میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر واقع شہر تاشیلیک (Tachileik) میں رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تجارتی شہر ہے جہاں میانمار کے دیگر شہروں اور تھائی لینڈ سے بھی کثیر تعداد میں مسلمان محنت مزدوری کے لیے آتے ہیں۔ اس شہر کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پورے شہر میں صرف ایک ہی مسجد ہے، اور تمام مسلمانوں کا مرکز وہی ایک مقام ہے۔ حال ہی میں یہاں کی انتظامیہ نے ایک ”ممبرشپ کارڈ“ جاری کیا ہے جس کے قواعد درج ذیل ہیں:

  1. صرف وہی خاندان یہاں کے رہائشی تسلیم کیے جائیں گے جن کے پاس یہ کارڈ ہوگا۔
  2. میت کے غسل، کفن، دفن اور دیگر سماجی حقوق کی سہولت صرف ان ہی کو ملے گی جن کے پاس یہ کارڈ ہوگا۔ 
  3. کارڈ کے لیے ماہانہ فیس مقرر ہے، اور تین ماہ فیس نہ دینے پر رکنیت ختم کر دی جائے گی۔

اس سلسلے میں ہمارا سوال یہ ہے کہ: جب پورے شہر میں صرف ایک ہی مسجد اور ایک ہی مسلم کمیونٹی کا انتظام ہو، تو کیا ایسے میں کسی مسلمان کی میت کے غسل و تدفین (فرضِ کفایہ) کو کارڈ یا فیس کے ساتھ مشروط کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا اس طرح کی پابندی سے وہ مسافر یا غریب مسلمان جو کارڈ نہیں رکھتے، اپنے بنیادی دینی حقوق سے محروم نہیں ہو جائیں گے؟ 

جواب

واضح رہے کسی مسلمان کے انتقال کے بعداس کے لواحقین کی عدم مو جودگی میں اس کی تجہیز وتکفین کا انتظام کرناشہرکے دیگر زندہ مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے،یعنی مسلمان میت کی تجہیز وتکفین کوچھوڑنے سے شہر کے تمام مسلمان گناہ گار ہوں گےاور چند لوگوں کے کرنے سے سب بری الذمہ ہوجائیں گے،اور اس کے جو اخراجات ہوں گے وہ میت کےترکہ میں سے ادا کیے جائیں گے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں مسلمانوں کے کفن دفن اور دیگر سماجی حقوق کو ’’ممبر شپ کارڈـــ‘‘کے ساتھ مشروط  کرنااور جس کے پاس یہ کارڈ نہ ہو اس کو ان حقوق سے محروم کرنا جائز نہیں ہے،اسی طرح اس کارڈ کے لیےماہانہ فیس مقرر کرنابھی جائز نہیں ہے،اگر خدانخوستہ کسی مسلمان میت کو ”ممبر شپ کارڈ“ نہ ہونے کی وجہ سے ان حقوق سے محروم کردیاگیاتو سب گناہ گا رہوں گے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة واجماع الأمة، كذا في النهاية، ولكن إذا قام به البعض سقط عن الباقين، كذا في الكافي."

(کتاب الصلوۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني في غسل الميت، ج:1، ص:158، ط:دارالفکر)

وفيه أيضاً:

"والكفن من ماله إن كان له مال ويقدم على الدين والوصية والإرث إلى قدر السنة ما لم يتعلق بعين ماله حق الغير كالرهن والمبيع قبل القبض والعبد الجاني، هكذا في التبيين. ومن لم يكن له مال فالكفن على من تجب عليه النفقة ...... وإن لم يكن له من تجب عليه نفقته فكفنه في بيت المال فإن لم يكن فعلى المسلمين تكفينه فإن عجزوا سألوا الناس، كذا في الزاهدي."

(کتاب الصلوٰۃ، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثالث في التكفين، ج:1، ص:161، ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"[مطلب في ‌دفن ‌الميت]

(قوله وحفر قبره إلخ) شروع في مسائل الدفن. وهو فرض كفاية إن أمكن إجماعا حلية. واحترز بالإمكان عما إذا لم يمكن كما لو مات في سفينة كما يأتي."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،ج:2،ص:233،ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101968

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں