بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمانوں کے آپس کے اختلاف اور جھگڑے پر خوش ہونا


سوال

مسلمانوں کے آپس کے اختلاف اور جھگڑے پر خوش ہونا کیسا ہے؟

جواب

مسلمانوں کے باہمی اختلاف، جھگڑے یا تفرقے پر خوش ہونا نہ صرف ناجائز، بلکہ نہایت مذموم اور باعثِ گناہ عمل ہے۔ ایسے مواقع پر اہلِ صلاح اور اربابِ حل و عقد پر اخلاقی اور دینی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان صلح اور مفاہمت کی سنجیدہ کوشش کریں۔

قرآن کریم میں ہے:

"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ."(سورة الحجرات، الآية:10)

ترجمہ: ”مسلمان تو سب بھائی ہیں۔ سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، تاکہ تم پر رحمت کی جائے ۔“ (از بیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والظن؛ فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، ‌ولا ‌تباغضوا، ‌وكونوا ‌عباد ‌الله إخوانا»."

(صحيح البخاري، ‌‌كتاب الأدب، باب ما ينهى عن التحاسد والتدابر، رقم الحديث:6064، ج:8، ص:19، ط:دار طوق النجاة بيروت)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ورایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اے لوگو!) بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، اور کسی کے عیب مت ٹٹولو، تجسس نہ کرو، آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، اور باہمی بغض و عداوت نہ رکھو، بلکہ اللہ کے بندے ہو کر آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“

ایک اور حدیث میں ہے:

"عن عامر قال: سمعته يقول: سمعت النعمان بن بشير يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم ‌كمثل ‌الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى»."

(صحيح البخاري، ‌‌كتاب الأدب، باب رحمة الناس والبهائم، رقم الحديث:6011، ج:8، ص:10، ط:دار طوق النجاة بيروت)

ترجمہ: ”ایمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت کی مثال ایک انسانی جسم جیسی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصّہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصّہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورا جسم متأثر ہوتا ہے، پورا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“

المنثور فی القواعد الفقہیہ (للشیخ بدر الدین زرکشی) میں ہے:

"قال الشيخ عز الدين، لو قتل عدو للإنسان ظلما، ففرح بموته، هل يأثم؟ قال، إن فرح بكونه عصى الله فيه: فنعم، وإن فرح بكونه خلص من شره، فلا بأس لاختلاف سبب الفرح، فإن قال: لا أدري بأي الأمرين كان فرحي، قلنا لا إثم عليك، لأن الظاهر من حال الإنسان أن يفرح بمصائب عدوه، لأجل الاستراحة."

(التمني، ج:1، ص:411، ط:وزارة الأوقاف الكويتية الکویت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101607

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں