بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان کا غیر مسلم کمپنی کو گدھے بیچنا


سوال

عرض  یہ ہے کہ ایک غیر مسلم (چینی) کمپنی گدھوں کی خریداری کرتی ہے، وہ ان گدھوں کو اپنے ملک میں مختلف مقامات (مثلا: گوشت یا دیگر مصنوعات) کے لیے استعمال کرتی ہے، ہمارے ہاں ایک شخص یہ کاروبار کرنا چاہتا ہے کہ وہ زندہ گدھے خرید کر اس غیر مسلم کمپنی کو فروخت کرے، اس سلسلے میں وہ کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرنا چاہتا ہے کہ یہ گدھوں کا گوشت کسی مسلمان کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعاً گدھوں کی خرید و فروخت (بطورِ تجارت) جائز ہے؟ کیا کسی مسلمان کے لیے  یہ جائز ہے کہ وہ گدھے خرید کر غیر مسلم کمپنی کو فروخت کرے؟ جب کہ غالب گمان  ہو کہ وہ ان کو گوشت کے طور پر استعمال کریں گے، اگر یہ شرط معاہدہ میں شامل کردی جائے  کہ مسلمانوں کو نہ بیچا جائے، تو کیا اس سے جواز پیدا ہوجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان کا غیر مسلم کمپنی کو گدھے فروخت کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، چاہے وہ غیر مسلم کمپنی اپنے ملک میں ان گدوں کا گوشت فروخت کرے یا دیگر مقاصد و استعمال میں لائے، البتہ گوشت کھانے کے لیے مسلمان کو اسے ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ گدھے  کا گوشت حرام ہے اور حرام کھانا یا کھلانا دونوں حرام ہیں، لہٰذا زندہ گدھوں کی خرید و فروخت کی جائے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی و نفع حلال ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى، واعتمده المصنف وسيجيء في المتفرقات.

ونقل ‌السائحاني عن الهندية: ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير وهو المختار اهـ وعليه مشى في الهداية وغيرها من باب المتفرقات كما سيأتي."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:69، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ولا ‌بأس ‌ببيع ‌العصير ‌ممن يتخذه خمرا في قول أبي حنيفة  رحمه الله تعالى."

(كتاب الأشربة، ج:5، ص:416، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100411

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں