بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان کی حقیقت واھمیت/پلانٹ کے پانی کو بیچنے کا حکم/حج کرنے سے کونسے گناہ معاف ہوتے ہیں؟


سوال

رہائشی کمپاؤنڈ میں ایک مصلی ہے، جس میں پانچوں نمازیں ہوتی ہیں، وہاں ایک صاحب کہتے ہیں کہ فجر کی اذان سے ہماری نیند خراب ہوتی ہے اور بچے ڈرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

(R.O (Reverse Osmosis Plant پلانٹ لگا کر جو دکانوں میں پانی بیچا جاتا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ایسا کاروبار کرنا کیسا ہے؟

حج کرنے سے کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور کون سے معاف نہیں ہوتے؟

جواب

 واضح رہے کہ  اذان سنتِ مؤکدہ اور اسلام کا شعار ( علامت و پہچان ) ہے اور اذان سے واضح ہوتا ہے کہ کس کے دل میں اللہ کے حکم کی عظمت اور قدر ہے، کون اللہ کے منادی مؤذن کی اذان اور پکار پر لپکتا ہے، اور تمام مشغولیت کو چھوڑ کر اس کے دربار میں حاضر ہوتا ہے، اور کس کے دل میں اپنی مشغولیات کی عظمت ہے۔غرض یہ کہ روزانہ اذان کے ذریعہ ہر آدمی کا پانچ دفعہ امتحان ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے یا اپنے نفس اور شیطان کی اتباع کرتا ہے ، جنت میں جگہ  بنانا چاہتا ہے یا اپنے آپ کو جہنم کی طرف لے جانا چاہتا ہے،نیز احادیث مبارکہ میں نفس اذان اور اس کی آواز کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہے:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا”کسی بستی میں اذان دی جاتی ہے تو اللہ جل شانہ اس بستی کو اس دن اپنے عذاب سے محفوظ ومامون فرما دیتے ہیں“،ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” اذان دینے والے کی بخشش کی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے اور ہر تر اور خشک اس کے لئے گواہی دیتے ہیں“۔

لہٰذا اذان کے بارے میں اس طرح بات کرنے سے بچنا چاہیے جس سے اذان کی اہمیت کم ہو، اور اگر ان صاحب نے اس طرح کی بات کی ہو تو اس پرسچے دل سے اللہ سے معافی مانگے اور دوبارہ اس طرح کی بات سے پرہیز کرے۔نیز اگر مصلی میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان کی آواز کافی تیز ہے تو مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ اس کی آواز مناسب انداز میں رکھیں کہ لوگوں کو آواز بھی پہنچے اور کسی کو تکلیف بھی نہ ہو۔

RO پلانٹ  لگا کر پانی کی خرید و فروخت کرنا درست اور حلال ہے بشرطیکہ خرید وفروخت کے سارے احکامات کی ر عایت رکھ کر کاروبار کیا جائے۔

حج کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے، نیز وہ حقوق جو بندے کے ذمہ ہیں چاہے وہ حقوق اللہ ہیں یا حقوق العباد جیسے نماز، زکوٰۃ، کسی کا قرض وغیرہ ان کی ادائیگی کے بغیر ان کی معافی نہیں ہوگی، اور قرض، نماز وغیرہ کی ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول کا گناہ معاف ہو جائے گا بشرطیکہ حج کے بعد دوبارہ ان حقوق کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے وگرنہ مزید تاخیر کا گناہ دوبارہ لازم آئے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) سببه (بقاء دخول الوقت وهو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة)

(قوله: في مكان عال) في القنية: ويسن الأذان في موضع عال والإقامة على الأرض، وفي أذان المغرب اختلاف المشايخ، والظاهر أنه يسن المكان العالي في المغرب أيضا كما سيأتي. وفي السراج: وينبغي للمؤذن أن يؤذن في موضع يكون أسمع للجيران، ويرفع صوته، ‌ولا ‌يجهد ‌نفسه؛ لأنه يتضرر. اهـ. بحر.قلت: والظاهر أن هذا في مؤذن الحي، أما من أذن لنفسه أو لجماعة حاضرين فالظاهر أنه لا يسن له المكان العالي لعدم الحاجة تأمل."

(کتاب الصلوۃ، باب الأذان، ص:384، ج:1، ط:سعید)

حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:

"واقتضت الحكمة الإلهية ألا يكون الأذان صرف إعلام وتنبيه، بل يضم مع ذلك من شعائر الدين بحيث يكون النداء به على رءوس الخامل والنبيه تنويها بالدين، ويكون قبوله من القوم آية انقيادهم لدين الله."

(القسم الثانی في بیان أسرار ما جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الأذان، ج:1، ص:322، ط:دار الجیل)

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أذن في قرية أمنها الله من عذابه ذلك اليوم."

(باب الألف، ومما أسند أنس بن مالک رضی اللہ عنہ، ج:1، ص:257، ط:مکتبة إبن تیمیة)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المؤذن يغفر له مدى صوته، ويشهد له كل رطب ويابس ......"

(کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت بالأذان، ج:1، ص:387، ط:دار الرسالة العالمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والمحرز في كوز وحب) بمهملة مضمومة الخانية (لا ينتفع به إلا بإذن صاحبه) لملكه بإحرازه.

( قوله والمحرز في كوز أو حب) مثله المحرز في الصهاريج التي توضع لإحراز الماء في الدور كما حرره الرملي في فتاواه وحاشيته على البحر، وأفتى به مرارا وقال: إن الأصل قصد الإحراز وعدمه، ومما صرحوا به لو وضع رجل طستا على سطح، فاجتمع فيه ماء المطر فرفعه آخر، إن وضعه الأول لذلك فهو له وإلا فللرافع اهـ ويشهد له ما قدمناه على القهستاني (قوله لا ينتفع به إلخ) إذ لا حق فيه لأحد كما قدمناه (قوله لملكه بإحرازه) فله بيعه ملتقى."

(کتاب إحیاء الموات، فصل في الشرب، ج:6، ص:439، سعید)

شرح المشکاۃ للطیبی میں ہے:

"وعن عمرو بن العاص، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: ابسط يمينك فلأبايعك، فبسط يمينه،.......قال (أما علمت يا عمرو! أن الإسلام يهدم ما كان قلبه، وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها، وأن ‌الحج ‌يهدمُ ما كان قبله؟!). رواه مسلم.

(تو): الإسلام يهدم ما كان قبله مطلقا، مظلمة كانت أو غير مظلمة، كبيرة كانت أو صغيرة،فأما الهجرة والحج فإنهما لا يكفران المظالم، ولا يقطع فيهما أيضا بغفران الكبائر التي بين الله وبين العباد، فيحمل الحديث على أن الحج والهجرة يهدمان ما كان قبلهما من الصغائر،ويحتمل أنهم يهدمان الكبائر أيضا فيما لا يتعلق به حقوق العباد بشرط التوبة، عرفنا ذلك من أصول الدين، فرددنا المجمل إلى المفصل، وعليه اتفاق الشارحين."

(کتاب الإیمان، ج:2، ص:482، ط:مکتبة نزار مصطفی الباز)

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه تأخير الدين وغيره وتأخير نحو الصلاة والزكاة من حقوقه تعالى، فيسقط إثم التأخير فقط عما مضى دون الأصل ودون التأخير المستقبل. قال في البحر: فليس معنى التكفير كما يتوهمه كثير من الناس أن الدين يسقط عنه، وكذا قضاء الصلاة والصوم والزكاة إذ لم يقل أحد بذلك. اهـ.......... والحاصل كما في البحر أن المسألة ظنية فلا يقطع بتكفير الحج للكبائر من حقوقه تعالى فضلا عن حقوق العباد، والله تعالى أعلم."

(کتاب الحج، فروع في الحج، مطلب في تکفیر الحج الکبائر، ج:2، ص:623، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703102043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں