
میں سوات سے آرہا تھا، میں مسافر تھا تو راستے میں ، میں نے چند مسافر اور مقیمین کو نماز پڑھائی تو میں نے چار رکعت پڑھائی، حالاں کہ میں مسافر تھا اور اس مسئلہ کے بارے میں مجھے علم بھی نہیں تھا تو اب اس کی تلافی کی کیا صورت ہوگی اور یہ تقریباً 2016 کی بات ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے مسافر ہونے کی حالت میں جو مقیم اور مسافر مقتدیوں کی امامت کی تھی اور اس میں دو رکعت کے بجائے چار رکعات پڑھادیں تو ایسی صورت میں اگر سائل نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرلیا تھا لیکن آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تھا تو اس کی اور اس کی اقتداء میں جو مسافر تھے ان کی نماز کا فرض ادا ہوگیا، لیکن سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے اس نماز کا وقت کےاندر اعادہ واجب تھا، اب وقت گزرنے کے بعد اعادہ کرنا مستحب ہے۔ اور سائل کے پیچھے جو مقیمین تھے ان کی نماز ادا نہیں ہوئی، ان پر اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔
اور اگر سائل نےدوسری رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا تھا تو سائل اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدی چاہے مسافر ہوں یا مقیم سب کی فرض نماز باطل ہوگئی تھی ، اس کا اعادہ لازم ہے۔
اب اگر سائل کے لیے ان مقتدیوں کو کسی بھی طریقے سے اطلاع کرنا ممکن ہے تو اطلاع کردے، ورنہ توبہ و استغفار کرے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"[تنبيه] يؤخذ من هذا أنه لو اقتدى مقيمون بمسافر وأتم بهم بلا نية إقامة وتابعوه فسدت صلاتهم لكونه متنفلا في الأخريين، نبه على ذلك العلامة الشرنبلالي في رسالته في المسائل الاثني عشرية؛ وذكر أنها وقعت له ولم يرها في كتاب. قلت: وقد نقلها الرملي في باب المسافر عن الظهيرية، وسنذكرها هناك أيضا."
(كتاب الصلوة، باب الإمامة،1/ 581، ط: سعيد)
وفیه أیضاً:
"(فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدًا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لايحل كما حرره القهستاني، بعد أن فسر أساء بأثم واستحق النار (وما زاد نفل) كمصلي الفجر أربعًا (وإن لم يقعد بطل فرضه) وصار الكل نفلًا لترك القعدة."
(كتاب الصلوة، باب المسافر، 2/ 128، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101694
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن