
کتنے سفر میں نماز قصر کے ساتھ پڑھی جائے گی اور فرائض کے ساتھ سنتیں بھی ادا کرنی ہیں یا نہیں؟
کلو میٹر کے حساب سے سفر شرعی کی مسافت 77.24 کلو میٹر ہے،میل کے حساب سے اڑتالیس میل اور اصل کے حساب سے تین دن صبح سے لے کر دوپہر تک معتدل سفرہے۔اگر کوئی شخص اتنی مسافت سفر کی نیت سے اپنے شہر کی حدود سے نکل جائے تواس کے لیے قصر کرنا جائز ہوگا۔
سنتوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ مسافر اگر حالتِ سیر میں ہے یعنی راستے میں ہے اور نماز کے لیے رکا ہوا ہے تو اس صورت میں اگر فرصت ہو تو سنتیں پڑھنا افضل ہے، نیز سنتوں میں قصر نہیں، یعنی چار رکعت سنت چار ہی پڑھی جائیں گی دو نہیں، اور اگر فرصت نہ ہو اور گاڑی نکلنے کا خدشہ ہو تو سنتیں چھوڑدینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر مسافر کسی شہر یا بستی میں پندرہ دن سے کم مدت کے لیے ٹھہرا ہواہو، حالتِ سیر میں نہ ہو (یعنی سفر جاری نہ ہو) تو اسے پوری سنتیں پڑھنی چاہئیں ۔
صحیح بخاری میں ہے:
"وكان ابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم يقصران ويفطران في أربعة برد وهي ستة عشر فرسخا."
(أبواب تقصير الصلاة، باب في كم يقصر الصلاة، ج: 2، ص: 43، ط: دار طوق النجاة)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"أقل مسافة تتغير فيها الأحكام مسيرة ثلاثة أيام، كذا في التبيين، هو الصحيح."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:138، دارالفكر)
البحر الرائق میں ہے :
"واختلفوا في ترك السنن في السفر فقيل: الأفضل هو الترك ترخيصا وقيل الفعل تقربا وقال الهندواني: الفعل حال النزول والترك حال السير، وقيل يصلي سنة الفجر خاصة، وقيل سنة المغرب أيضا، وفي التجنيس والمختار أنه إن كان حال أمن وقرار يأتي بها؛ لأنها شرعت مكملات والمسافر إليه محتاج، وإن كان حال خوف لا يأتي بها؛ لأنه ترك بعذر اهـ."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:141، دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101136
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن