بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مرغی کو ذنح کرتے وقت اس کی زبان باہر نکالنا ضروری نہیں


سوال

كیا مرغی کو ذبح کرتے وقت مرغی کی زبان باہر نکالنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

کسی بھی جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی چار رگیں، یعنی کھانے کی نالی، سانس کی نالی اور دو خون کی نالیاں، یا ان میں سے اکثر کاٹ دی جائیں۔ مرغی کو ذبح کرنے کا طریقہ بھی یہی ہے۔ مرغی کو ذبح کرتے وقت اس کی زبان نکالنا ہرگز ضروری نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

" الذكاة نوعان: اختيارية واضطرارية، أما الاختيارية فركنها الذبح فيما يذبح من الشاة والبقر، والنحر فيما ينحر وهو الإبل عند القدرة على الذبح والنحر، ولا يحل بدون الذبح أوالنحر، والذبح هو فري الأوداج ومحله ما بين اللبة واللحيين، والنحر فري الأوداج ومحله آخر الحلق، ولو نحر ما يذبح أو ذبح ما ينحر يحل لوجود فري الأوداج لكنه يكره لأن السنة في الإبل النحر وفي غيرها الذبح، كذا في البدائع."

(كتاب الذبائح، الباب الاؤل في ركنه وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5، ص: 285، ط: رشيديه)

وفيه أيضا:

" والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم وهو مجرى النفس، والمريء وهو مجرى الطعام، والودجان وهما عرقان في جانبي الرقبة يجري فيها الدم، فإن قطع كل الأربعة حلت الذبيحة، وإن قطع أكثرها فكذلك عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى"

(كتاب الذبائح، الباب الاؤل في ركنه وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5، ص: 287، ط: رشيديه)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں