
نیز اگر کوئی شخص ان مذکورہ افعال کا ارتکاب کرے تو کیا اسلام میں اس پر کوئی وعید یا عذاب کا ذکر موجود ہے؟
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مسلمان کی قبر اور اس کا جسم مرنے کے بعد بھی اسی طرح محترم ہے جیسے زندگی میں تھا ۔ اسے ضرورتِ شرعیہ کے بغیر قبر سے نکالنا، اس کے اعضاء کاٹنا یا نکالنا، قبر پر چلنا اور پیشاب کرنا، یہ سب افعال قبر کی بے حرمتی اور اہلِ قبر کی دل آزاری کے زمرے میں آتے ہیں۔ بلکہ یہ شرعاً حرام اور بدترین گناہ بھی ہیں۔
ان افعال کے مرتکب کے لیے سخت وعید بھی وارد ہوئی ہے۔ جیساکہ ایک حدیث میں ہے: (ترجمہ) "حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت ﷺ نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: قبر والے کو ایذاء نہ دے! قبر سے اُتر جا! تا کہ تیرا یہ عمل تیرے لئے عذابِ آخرت کا سبب نہ بنے۔" (شرح معاني الآثار: 4/ 133)۔
ایک اور حدیث میں ہے: (ترجمہ) "اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ انگارہ اس کا کپڑا جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر کے اوپر بیٹھے۔" (مشكاة المصابيح: 1/ 533)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: (ترجمہ) "عقبة بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'یہ میرے لیے بہتر ہے کہ میں جمرہ (گرم انگارہ) یا تلوار پر چلوں، یا اپنی چپل کو اپنے پاؤں کے نیچے پھاڑ دوں، بجائے اس کے کہ میں کسی مسلمان کے قبر پر چلوں۔ اور مجھے فرق نہیں پڑتا اگر میں قبروں کے درمیان اپنی قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) کر لوں، یا بازار کے بیچ میں (یعنی قبروں کے درمیان قضائے حاجت کرنا اسی طرح قبیح اور ناپسندیدہ ہے جیسے بازار کے بیچ میں قضائے حاجت کرنا)۔" (سنن ابن ماجہ:2/ 508)۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر کی بے حرمتی سخت ممنوع اور شدید گناہ ہے، جس سے ہر مسلمان کو لازماً اجتناب کرنا چاہیے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كسر عظم الميت ككسره حيا». رواه مالك وأبو داود وابن ماجه."
(كتاب الجنائز، باب دفن الميت، ج: 1، ص: 537، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ:" اور حضرت عائشہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا "مردہ کی ہڈیوں کو توڑنا (باعتبار گناہ کے زندہ شخص کی ہڈیوں کے توڑنے کی مانند ہے۔"
(مظاہر حق، کتاب الجنائز، مردہ کو دفن کرنے کا بیان، ج: 2، ص: 126، ط: دار الاشاعت کراچی)
وفیہ ایضاً:
"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر» . رواه مسلم."
(كتاب الجنائز، باب دفن الميت، ج: 1، ص: 533، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ: "اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ انگارہ اس کا کپڑا جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر کے اوپر بیٹھے (مسلم)۔ "
(مظاہر حق، کتاب الجنائز، مردہ کو دفن کرنے کا بیان، ج: 2، ص: 119، ط: دار الاشاعت کراچی)
شرح معانی الآثار میں ہے:
"عن عمرو بن حزم، قال: رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبر فقال: "انزل عن القبر، لا تؤذ صاحب القبر، فلا يؤذيك."
(كتاب الجنائز، باب: الجلوس على القبور، ج: 4، ص: 133، ط: دار ابن حزم - بيروت، لبنان)
ترجمہ: "حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آنحضرت ﷺ نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: قبر والے کو ایذاء نہ دے! قبر سے اُتر جا! تا کہ تیرا یہ عمل تیرے لئے عذابِ آخرت کا سبب نہ بنے۔"
(آپ کے مسائل اور ان کا حل، عقيدۂ حیات النبی ﷺ پر اجماع، جلد 1، صفحہ 261، ط:مکتبۂ لدھیانوی کراچی)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن أمشي على جمرة أو سيف، أو أخصف نعلي برجلي، أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم، وما أبالي أوسط القبور قضيت حاجتي، أو وسط السوق."
ترجمہ: "عقبة بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'یہ میرے لیے بہتر ہے کہ میں جمرہ (گرم انگارہ) یا تلوار پر چلوں، یا اپنی چپل کو اپنے پاؤں کے نیچے پھاڑ دوں، بجائے اس کے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ اور مجھے فرق نہیں پڑتا اگر میں قبروں کے درمیان اپنی قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) کر لوں، یا بازار کے بیچ میں۔"
(أبواب الجنائز، باب ما جاء في النهي عن المشي على القبور والجلوس عليها، ج: 2، ص: 508، ط: دار الرسالة العالمية)
الأصل لمحمد بن الحسن الشیبانی میں ہے:
"لأن في نبش القبور وإخراج الموتى إثما عظيما، فليس ينبغي أن تباع المقبرة ولا توهب ولا تورث، لأن الذي يصير له ذلك لا يمنع من نبش القبور واخراج الموتى منها إن أراد أن يجعلها أرضأ يحفر فيها الانهار ويغرس فيها النخل والشجر، وهذا فيه مأثم وضرر، فلا ينبغي أن يرجع في المقبره."
(كتاب الصدقة الموقوفة،باب ما يجوز من صدقة الأرض الموقوفة والخان والمقبرة، ج: 12، ص: 101، ط: دار ابن حزم، بيروت)
تحفۃ الفقہاء لعلاء الدين السمرقندی الحنفی میں ہے:
"والنبش حرام. وكره أبو حنيفة أن يوطأ على قبر أو يجلس عليه أو ينام عليه أو يقضي عليه حاجة من غائط أو بول على ما روي عن النبي عليه السلام أنه نهى عن الجلوس على قبر ولأن في هذه الأشياء ترك تعظيم الميت ."
(كتاب الجنائز، باب الدفن وحكم الشهداء، ج: 1، ص: 257، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
المعتصر من المختصر من مشكل الآثار ميں ہے:
"روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "كسر عظم المسلم ميتا مثل كسره حيا" لا يقال فليجب في كسر عظم الميت قصاص أو دية لأن عظم الميت له حرمة مثل حرمة عظم الحي ولكن لا حياة فيه فكان كاسره في انتهاك الحرمة ككاسر عظم الحي وعدم القصاص والارش لانعدام المعنى الذي يوجبه من الحياة."
( كتاب الجنائز، في عذاب الميت، ج: 1، ص: 119، ط: عالم الكتب - بيروت)
مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"ولا يجوز كسر عظامه ولا تحويلها ولو كان ذميا ولا ينبش وإن طال الزمان ..... "ولا يجوز نقله" أي الميت "بعد دفنه" بأن أهيل عليه التراب ..... للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى "إلا أن تكون لأرض مغصوبة" فيخرج لحق صاحبها إن طلبه."
(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص: 227، ط: المكتبة العصرية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ميں ہے:
"(قوله ولا يخرج من القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لا يجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه وصرحوا بحرمته وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه أو كفن بثوب مغصوب أو دفن في ملك الغير أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد «أباح النبي صلى الله عليه وسلم نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه."
(كتاب الجنائز، ج: 2، ص: 210، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفیہ ایضاً:
"وفي المجتبى ويكره أن يطأ القبر أو يجلس أو ينام عليه أو يقضي عليه حاجة من بول أو غائط أو يصلى عليه أو إليه ثم المشي عليه يكره، وعلى التابوت يجوز عند بعضهم كالمشي على السقف. اهـ."
(كتاب الجنائز، ج: 2، ص: 209، ط: دار الكتاب الإسلامي)
کفایۃ المفتی میں ہے:
"(جواب (۱۳۱) مسلمانوں کی قبروں کی حفاظت اور ان کا احترام لازم ہے۔ قبروں کی بے حرمتی کرنا اور ان پر بیٹھنا گناہ ہے۔"
(کتا ب الوقف، ج: 7، ص: 134، ط: دار الاشاعت کراچی)
وفیہ ایضاً:
"جواب (٢٢٦) جن لوگوں نے قبر سے لاش نکالی اور اس کا سر کاٹا اور بے حرمتی کی انہوں نے بہت سخت ظلم اور براکام کیا انکو قانونی سزادلوانی چاہئیے۔"
(كتاب الجنائز، ج: 4، ص: 205، ط: دار الاشاعت كراچی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"قبر کے قریب پیشاب کرنا..........
الجواب حامداً ومصلياً: عین قبر پر پیشاب یا پاخانہ کرنا حرام ہے، بزرگانِ دین کی قبر کا زیادہ احترام کرنا چاہئیے ، قبر سے فاصلہ پر ضرورت پوری کرنے کی گنجائش ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم ۔"
(باب الجنائز، قبر کے قریب پیشاب کرنا، ج: 9، ص: 141، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101124
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن