بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مردار جانور اور خنزیر کے گوشت کا سالن پکانے کا حکم


سوال

میں سمندری جہازوں میں باورچی کا کام کرتا ہوں، جہاز میں اکثر غیر مسلم بھی ہوتے ہیں، جو کہ حرام غذائیں کھاتے ہیں، تو مجھے ان کے لیے مردار اور حرام جانوروں کا سالن بنانا پڑتا ہے، ان میں خاص طور پر خنزیر کے گوشت کا سالن بھی بنانا پڑتا ہے، یہی واحد میرے گزر بسر کا ذریعہ ہے۔میں جب بھی اس قسم کے گوشت کو اٹھاتا ہوں تو اٹھانے سے پہلے ہاتھوں میں دستانے پہن لیتا ہوں۔

شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟ میرے لیے یہ کام کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟  اور اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا؟   کیا میرے لیے ان غیر مسلموں کے لیے مردار جانوروں کا کھانا بنانا جائز ہے؟ 

جواب

مسلمان کے لیے مردار جانور اور خنزیر کا گوشت پکانے کی اجازت نہیں ہے، اگرچہ اس کو کھانے والے غیر مسلم ہی ہوں، ان چیزوں کا پکانا ناجائز ہے نیز اس کی تنخواہ بھی حلال نہیں۔

البحر الرائق میں ہے:

"وفي العتابية يكره الأكل والشرب متكئا أو واضعا شماله على يمينه، أو مستندا ولا يسقي أباه الكافر خمرا ولا يناوله القدح ويأخذه منه ولا يذهب به إلى البيعة، ويرده منها ويوقد ‌تحت ‌قدره إذا لم يكن فيه ميتة."

(كتاب الكراهية ، الاكل والشرب متكئاأو واضعا شماله على يمينه أو مستندا ، جلد : 8 ، صفحه :210 ، طبع : دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يسقي أباه الكافر خمرا، ولا يناوله القدح ويأخذ منه، ولا يذهب به إلى البيعة ويرده عنها ويوقد تحت قدره إذا لم يكن فيها ميتة ‌أو ‌لحم ‌خنزير، ولا يحضر المسلم مائدة يشرب فيها خمر أو تؤكل الميتة، كذا في الفتاوى العتابية."

(كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل وما يتصل به، ج:5 ص:341 ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703102259

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں