بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینکوں سے ذاتی گھر کی خریداری کے لیے شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کرنے کا حکم


سوال

 میں گزشتہ کئی برسوں سے کرائے کے مکان میں مقیم ہوں اور اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ کرایہ کی مد میں ادا کر رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنا ذاتی گھر بنا سکوں؛ تاکہ کرائے سے نجات ملے اور بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکوں۔ بد قسمتی سے میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ فوری طور پر گھر خرید سکوں، میں اسلامی بینکاری سے ہاؤس لون لينا نہیں چاہتا، لیکن اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آ رہا۔ اسلامی بینکاری کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اسلامی بینکاری میں کراچی انٹر بینک آفر ريٹ (كبور) لازمي ہوتا ہے، جو میرے فہم کے مطابق سود کے زمرے میں آتا ہے ، اس لیے اسلامی بینک سے بھی قرض لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میری جوانی کی کمائی کرائے کی نذر ہو رہی ہے اور بچوں کے مستقبل کے لیے بچت بھی نہیں کر پا رہا۔لہٰذا میری گزارش ہے کہ میری موجودہ صورت حال میں شریعت کیا رہنمائی فرماتی ہے ؟بہت سے بینکوں کا کہنا ہے کہ  فتوی کے مطابق اسلامی بینکنگ کے ذریعے اسلامی بینکوں سے مکان اور گاڑی لینا  جائز ہے۔ میری معلومات کے مطابق اسلامی بینک diminishing musharka کا معاملہ کر کے گھر دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ اسلام میں جائز ہے۔کیا میرے لیے اسلامی بینک سے  diminishing musharka کا معاملہ کر کے ذاتی مکان خریدنا شرعاً جائز ہے؟

آپ سے گزارش ہے کہ میرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے راہ نمائی فرمائیں تاکہ میں اپنی زندگی اور بچوں کے لیے کوئی بہتر ، شرعی فیصلہ کر سکوں۔

جواب

اسلامک بینکنگ کے نام سے کام کرنے والے مروجہ اسلامی بینک گھر کی خرید و فروخت کے لیے لوگوں کے ساتھ شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کرتے ہیں۔ لیکن شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ متعدد شرعی اصولوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، کیوں کہ شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) میں ایک ہی معاملے میں كئي عقود  (بیع، شرکت اور اجارہ) کو جمع کیا جاتا ہے اور عملاً ایک عقد کو دوسرے عقد کے لیے شرط قرار دیا جاتا ہے، حالاں کہ  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک عقد کی تکمیل سے پہلے اس عقد میں دوسرا عقد  داخل کرنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح ایک عقد کے لیے دوسرے عقد کو شرط قرار دینا بھی شرعًا ممنوع ہے، نیز شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) میں "تصدقِ جبری" کے نام سے جرمانہ بھی وصول کیا جاتا ہے جو کہ شرعاً ناجائز ہے، اس  لیے  شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ  بھی  شرعی اصولوں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ناجائز   اور سودی قرضے کا ایک ناجائز متبادل ہے؛ لہذا کسی بھی مروجہ اسلامی بینک کے ساتھ شرکتِ متناقصہ (diminishing musharka) کا معاملہ کر کے گھر لینا  "ہوم  فائننس"  کی مد میں رقم لینا جائز نہیں ہے۔  چناں چہ آپ اپنا ذاتی گھر خریدنے کے لیے سودی یا غیر شرعی معاملے کے ساتھ مشروط  قرضہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا  جائز متبادل راستہ (مثلاً غیر سودی قرضہ ) اختیار کریں، اور جب تک غیر سودی قرضہ نہ مل سکے اس وقت تک کرائے کے مکان میں ہی گزارا  کرنے کی کوشش کریں۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}قال أبو بكر: قد انتظم هذا العموم النهي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل ... ونظير ما اقتضته الآية من النهي عن أكل مال الغير قوله تعالى:{ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام}[البقرة: 188] ، وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه". وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة، وهو أن يأكله بالباطل؛ وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."

(باب التجارات وخیار البیع، 216،215/2، ط: دارالکتب العلمیة)

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح»، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته... الخ."

(سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:3، ص:525،رقم: 1231،ط: مصطفى البابي الحلبي – مصر)

حدیث شریف میں ہے:

"إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام كالراعى يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا ! وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه."

(أخرجه مسلم في«باب أخذ الحلال وترك الشبهات» ج:5، ص:50، برقم (4178)، ط:دار الجيل،بيروت)

ترجمہ: ’’بے شک حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک ومحفوظ کر لیا ، اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہو گیا، اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی منڈير پر چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چرا گاہ میں گھس کر چرنے لگیں، جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزيں ہیں۔‘‘

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو هدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا." 

(14/513، باب کل قرض جرّ منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارۃ القرآن)

عمدة القاری ميں ہے:

"وقال الخطابي: كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة والحلال اليقين ما علم ملكه يقينا لنفسه والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا والشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره فالورع اجتنابه ثم الورع على أقسام واجب كالذي قلناه ومستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا."

(كتاب البیوع، باب تفسير المشبهات،ج:11، ص:236، ط:دارالكتب العلمية. الطبعة الأولى: 1421ه)

و في المبسو ط للسرخسي:

"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ."

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:13، ص:8، ط:دارالمعرفة) 

ہدایہ  میں ہے:

"قال (ومن باع ثمرة لم يبد صلاحها أو قد بدا جاز البيع) ؛ لأنه مال متقوم، إما لكونه منتفعا به في الحال أو في الثاني، وقد قيل لا يجوز قبل أن يبدو صلاحها والأول أصح (وعلى المشتري قطعها في الحال) تفريغا لملك البائع، وهذاإذا اشتراها مطلقا أو بشرط القطع (وإن شرط تركها على النخيل فسد البيع) ؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير أو هو صفقة في صفقة وهو إعارة أو إجارة في بيع."

وفی فتح القدیر تحته:

"لأنه إن شرط بلا أجرة فشرط إعارة في البيع أو بأجرة فشرط إجارة فيه."

(كتاب البيوع: 6/ 288، دارالفكر)

حدیث شریف میں ہے:

"أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه، أنبأ أبو محمد بن حيان، ثنا حسن بن هارون بن سليمان، ثنا عبد الأعلى بن حماد، ثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لايحلّ مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

(السنن الكبرى للبيهقي، باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارًا، 166/6، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأفاد في البزازية: أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدةً؛ لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ... وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود، باب التعزیر،61/4،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں