
1۔اگر ہم امام کے ساتھ دوسری رکعت کے قعدہ اولیٰ میں شریک ہوں، اور شامل ہوتے ہی امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو التحیات پوری کرنی ہوگی یانہیں ؟اور نہ کرنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں ؟
2۔اگر غیر مسلم مملکت میں بچے (بالغ)جمعہ کو اسکول جانے کی وجہ سے جمعہ کی نماز نہ پڑھ پائیں، تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ظہر کا وقت ختم ہونے سے پہلے بچے گھر آجاتے ہیں، لیکن جمعہ نکل جاتا ہے ، تو اس صورت میں جمعہ کو اسکول کی چھٹی کرائی جائے یا ظہر پڑھی جائے ؟
3۔میرے والد صاحب کی دوسری بیوی (جو میری والدہ نہیں ہیں )کی والدہ (یعنی میری سوتیلی نانی)میری محرم ہیں یا نہیں ؟
1) اگر کوئی شخص پہلے قعدہ میں آکر امام کے ساتھ شامل ہوجائے اور اس کے التحیات مکمل پڑھنے سے پہلے ہی امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے یا کوئی شخص آخری قعدہ میں امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوجائے اور اس کی التحیات مکمل ہونے سے پہلے ہی امام سلام پھیر دے تو دونوں صورتوں میں اس مقتدی کو چاہیے کہ التحیات پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے یا بقیہ نماز کی تکمیل کے لیے کھڑا ہو، مذکورہ دونوں صورتوں میں التحیات چھوڑنا درست نہیں ہے، اور اگر کسی شخص نےاس موقع پر التحیات چھوڑ دی اور التحیات پڑھے بغیر کھڑا ہوگیا تو واجب چھوٹنے کی وجہ سے اس کی نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا ہوگی، اس شخص پر سجدہ سہو لازم نہیں ۔
الدر المختار میں ہے:
"(لو رفع الإمام رأسه) من الركوع أو السجود (قبل أن يتم المأموم التسبيحات) الثلاث(وجب متابعته) وكذا عكسه فيعود ولا يصير ذلك ركوعين (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز".
وفي الرد:
"(قوله فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد (قوله لوجوبه) أي لوجوب التشهد كما في الخانية وغيرها، ومقتضاه سقوط وجوب المتابعة كما سنذكره وإلا لم ينتج المطلوب فافهم (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح... وحينئذ فقولهم ولو لم يتم جاز معناه صح مع الكراهة التحريمية، ويدل عليه أيضا تعليلهم بوجوب التشهد إذ لو كانت المتابعة واجبة أيضا لم يصح التعليل كما قدمناه فتدبر".
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل أي في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، 1/ 496، ط: سعيد)
2۔اگر مذکورہ علاقے میں جہاں ان بچوں کی رہائش ہے وہاں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہوں تو وہاں کے رہنے والے عاقل بالغ افراد پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی لازم ہے ،جمعہ کی نماز فرض ہے اور بلاعذر جمعہ کی نماز ترک کرنے والا سخت گناہ گار ہے، احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مذکورہ بچوں سے جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی پابندی کروانی چاہیے ، یا تو اسکول انتظامیہ سے بات کرکے جمعہ کے دن بچوں کی جلد چھٹی کرواکرنماز جمعہ میں شمولیت یقینی بنائی جائے ، اور جلد چھٹی کی کوئی صورت نہ ہو تو جمعہ کے دن اسکول سے رخصت لے کر نماز جمعہ کی ادائیگی کی جائے ۔ محض اسکول جانے کی وجہ سے جمعہ کی جماعت ترک کرکے ظہر ادا کرنا یہ فعل جائز نہیں ۔
الدر المختار میں ہے:
"وهي فرض مستقل آكد من الظهر".
وفي الرد:
"(قوله: آكد من الظهر) أي لأنه ورد فيها من التهديد ما لم يرد في الظهر، من ذلك قوله صلى الله عليه وسلم: "«من ترك الجمعة ثلاث مرات من غير ضرورة طبع الله على قلبه»، رواه أحمد والحاكم وصححه، فيعاقب على تركها أشد من الظهر و يثاب عليها أكثر، و لأن لها شروطًا ليست للظهر، تأمل."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 137-136، ط: سعيد)
3۔سائل کی سوتیلی والدہ کی والدہ یعنی سائل کی سوتیلی نانی سائل کی محرم نہیں ہیں۔
الدر المختار میں ہے:
"وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال".
وفي الرد: "(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر.
قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأبولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ".
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 3/ 31، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144506102221
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن