بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام کو لقمہ دینے کا حکم


سوال

امام نے اگر نماز میں سورہ  فاتحہ کے بعد سورت  میں غلط پڑھا،  اس کے بعد مقتدی نے درست پڑھ کر امام صاحب کی تصحیح کی پھر امام صاحب نے بھی درست کرلیا تو کیا یہ نماز صحیح ہوجائے گی؟کیاامام کے غلط پڑھنے پر نماز ادا ہوسکتی ہے؟

جواب

امام اگر قراءت میں غلطی کردے تو مقتدی کا امام کو لقمہ دے کر غلطی کی تصحیح کرنا درست ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والصحيح أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة........والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح. هكذا في الكافي."

(کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الأول، ج:1، ص: 99، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100271

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں