
اگر کوئی ادارہ مقررہ چھٹیوں سے زیادہ کی صورت میں تنخواہ سے کٹوتی کرے، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ کسی بھی دینی و عصری تعلیمی اداروں کے ملازمین و اساتذہ کی حیثیت ”اجیرِ خاص“ کی ہوتی ہے؛ کیوں کہ جہاں وہ اپنے متعلقہ امور و ذمّہ داری کے پابند ہیں، وہیں وقت کے بھی پابند ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر وہ ضابطہ کے مطابق ملازمت کے مقررہ اوقات پر حاضر رہیں تو اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوں گے، اور اگر وہ ملازمت کے اوقات میں بلا اطلاع غیر حاضر رہیں، یا تاخیر سے آئیں، یا مقررہ وقت سے پہلے چلے جائیں، تو اس غیر حاضری، تاخیر اور وقت سے پہلے چلے جانے پر اصولاً اس کے بقدر تنخواہ کا حق دار نہیں ہوں گے۔ تاہم شریعت نے فریقین کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ تنخواہ کے بارے میں باہمی رضامندی سے، چھٹی یا تاخیر کی صورت میں، کوئی جائز ضابطہ بنا کر آپس میں طے کر لیں؛ اور اس کی شرعاً بھی اجازت ہے۔
لہٰذا اگر کسی ادارے کا یہ ضابطہ ہو کہ کوئی استاذ یا ملازم مقررہ چھٹیوں سے زیادہ چھٹی کرے گا تو غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی، تو اس کا یہ ضابطہ غیر شرعی نہیں ہے۔ البتہ اگر ادارے نے ضابطے کے مطابق اساتذہ یا ملازمین کے لیے عام تعطیلات کے علاوہ استحقاقی چھٹیاں بھی مقرر کر رکھی ہوں تو ایسی چھٹیاں لینے کی صورت میں ملازم کی تنخواہ کاٹنا وعدہ خلافی اور ناجائز ہوگا۔
حدیث شریف میں ہے:
"عن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما». رواه الترمذي وابن ماجه."
(مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب الإفلاس والإنظار، الفصل الثاني، ج:2، ص:882، ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ: ”حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال بنا دے۔ اور مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں، مگر وہ شرط جائز نہیں جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.
وفي الرد: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."
(کتاب الإجارۃ، مبحث الأجير الخاص، ج:6، ص:69، ط:ایج ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101589
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن