
بندہ ایک ادارے میں کام کرتا ہے ادارے نے اپنے ساتھیوں کو سالانہ ہدیہ دینے کے لیے بندے کو سامان خریدنے کے لیے مارکیٹ بھیجا، بندے نے جو سامان جتنے کا خریدا تھا ادارے کو لا کر دے دیا، سامان پانی کی بوتلیں تھیں اور ان پر ادارے کا نام پرنٹ کروانا تھا۔ ادارے کا کام ڈیوٹی کے وقت میں مکمل کر دیا، اس کے بعد کچھ بوتلیں بندے نے اپنے لیے بھی خرید لیں، بندے کے ذہن میں یہ تھا کہ یہ بوتلیں بندہ ذاتی طور پر بیچ دے گا، ان بوتلوں کے لیے بندہ نے رقم بھی اپنی ذاتی لگائی تھی، ادارہ کی رقم کا بالکل استعمال نہیں کیا، اور نہ ادارے کے وقت میں یہ خریداری کی، ہاں صرف یہ کام کیا کہ جب صبح آفس جا رہا تھا، تب اپنی ذاتی بوتلیں لے کر خریدار کو دے دیں، اور بائیک بھی ذاتی تھی۔
یہ بوتلیں ادارے کے کچھ ساتھیوں نے ذاتی طور پر بندے سے خریدیں، جو کہ بندے نے اپنا منافع رکھ کر فروخت کیں، واضح رہے کہ ان ذاتی بوتلوں میں ایک کام خریدنا تھا اور دوسرا کام بوتل پر خریدار کا نام لکھنا تھا، یہ دونوں کام مختلف جگہوں پر ہوئے تھے، بندے نے ایک جگہ سے سامان اٹھایا اور اپنا ذاتی کرایہ لگا کر دوسری جگہ سے نام لکھوایا۔ جب یہ کام ہوا تو بندے نے اضافی وقت بھی دیا، جس میں ادارے کا کام بھی کیا اور اپنا ذاتی کام بھی کیا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ذاتی طور پر بندے کا یہ کاروبار ادارے میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ ادارہ اگر بندہ سے مفوضہ امور سے ہٹ کر کام لیتا ہے، اور صرف کرایہ کے پیسے دیتا ہے، باقی کھانا وغیرہ خرچہ نہیں دیتا، تو ادارہ کے لیے یہ کام جائز ہے؟ اور بندہ اس کام کا پابند ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی حیثیت اجیر خاص کی ہے اور اجیرِ خاص معاہدے کے مطابق مقررہ وقت میں صرف ادارے کے طے شدہ عمل اور وقت دینے کا پابند ہوتا ہے، یا جو کام عرف میں اس عہدے کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہو، مقررہ وقت میں کوئی دوسرا کام کرنا یا کروانا جائز نہیں ہے، البتہ مقررہ اوقات کے علاوہ اجیرِ خاص کا اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کام کرنا درست ہوگا، بشرطیکہ اس کام سے ادارے کو نقصان نہ ہوتا ہو، صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل نے ادارہ کے اوقات کے علاوہ میں اپنے ذاتی خرچ سے کام کیا ہے، اور اس سے ادارے کے کام میں حرج بھی واقع نہیں ہوا، لہذا سائل کے لیے یہ خرید و فروخت درست ہے۔ البتہ اگر اس سے ادارے کے کام میں خلل پڑتا ہو یا ادارہ کے مقررہ وقت میں کیا جاتا ہو تو پھر جائز نہیں ہے۔
نیز سائل کے مقررہ اوقات کے علاوہ اگر اس سے اضافی کام لیا جاتا ہے تو چوں کہ یہ ملازمت کی مفوضہ ذمہ داریوں کے علاوہ ہیں، اس صورت میں سائل اضافی کام کرنے کا پابند نہیں ہوگا، تاہم اگر سائل اضافی کام کو خوشی سے کرنا چاہے تو ٹھیک ہے، ورنہ اضافی کام کرنےکی صورت میں اضافی اجرت لینے کا مطالبہ کرنا درست ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"والخاص لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يبقى الأجر مستحقا وإن نقض العمل ،قال أبو السعود: يعني وإن نقض عمل الأجير رجل، بخلاف ما لو كان النقض منه فإنه يضمن كما سيأتي... (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل... (قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة... و ليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل.
(قوله: و ليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى ... (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة".
(کتاب الاجارۃ، باب ضمان الاجارۃ، ج:6، ص:64-70، ط:دار الفكر)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101995
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن