بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منافع کا حساب نہ رکھنے کی صورت میں حکم


سوال

میں نے کسی شخص سے چھ لاکھ روپے اس نیت سے لیے تھے کہ اسے ۲۵٪ منافع دیا جائے گا، جو اس کے پیسے سے حاصل ہوگا۔ لیکن غفلت کی وجہ سے میں نے منافع کا حساب نہیں رکھا۔ وقت پورا ہونے پر اس نے پیسے کا مطالبہ کیا تو میں نے اصل رقم یعنی ۶۰۰,۰۰۰ روپے واپس کر دی، مگر منافع کا پتہ نہیں۔ اب وہ شخص منافع بھی مانگ رہا ہے۔ اس شخص کا تعلق رشتے میں سالہ سے ہے۔

کیا اس صورت میں میں اس کے منافع ادا کرنے کا پابند ہوں؟ اور اگر ہاں، تو منافع کا حساب کس طرح کیا جائے؟

جواب

صورت مسئولہ میں کاروباری شرکت (شرکت) میں منافع کا طے شدہ تناسب سے تقسیم ہونا ضروری ہے ، اور یہ شریک کا حق ہے، لہذا سائل نے اگر مذکورہ رقم کسی کاروبار کے لیے 25٪ فیصد منافع کے اعتبار سے لی ہے، تو سائل پر ضروری ہے کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع کی تعیین کرے،اور پھر اس کے بعد 25٪ فیصد ادا کرے ، تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو جائے۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألالا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."

(کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج1، ص261، ط:رحمانیه)

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144708102231

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں