بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

0 محرم 1448ھ 16 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

منہ دکھائی میں دیے گئے لاکٹ کا حکم


سوال

میرا بیوی کے ساتھ رشتہ ختم ہو چکا ہے ،حق مہر وغیرہ بھی دے دیا تھا اب پوچھنا یہ  ہے کہ میں نے جو اپنی بیوی کو پہلی رات تحفے میں ایک لاکٹ دیا تھا، آیا اب میں واپس لوں گا؟ یا وہ بیوی کا ہو چکا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں  رخصتی کے بعد سائل نے بیوی کو منہ دکھائی کے طور پر جو لاکٹ دیا تھا  شرعاً وہ  تحفہ ہے ، اور وہ  بیوی کی ملکیت ہے، جوکہ طلاق کے بعد  بھی اسی کا ہے؛ لہٰذا اس کا واپس لینا  شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی ہے:

"قلت: ‌ومن ‌ذلك ‌ما ‌يبعثه ‌إليها ‌قبل ‌الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر."

(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج: 3، ص: 153، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں