بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مُلّا اور مولانا میں فرق


سوال

مُلا اور مولانا میں  کیا فرق  ہے؟

جواب

”مولانا“،”مُلّا“،اور ”مولوی“ یہ الفاظ بالعموم اسلامی پیشواؤں کے لئے احترام و تعظیم کی غرض سے بولے جاتے تھے اور اب بھی شرفاء کے ہاں تعظیم کے لئے ہی مستعمل ہیں ۔کسی عالم دین کے لئے ہمارے ہاں احتراماً ”مولانا“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، افغانستان اور آزاد ریاستوں نیز ترکی تک دینی عالم کو از راہِ احترام یا علمی فراوانی کی وجہ سے ”مُلّا“ یا ”مُنلا“ کہا جاتا تھا، ہمارے ہاں لفظ ”علّامہ“ اسی کے مترادف  استعمال ہوتا ہے، اسی طرح خدا ترس ماہر عالم کے لئے فارسی بولنے والے خطوں میں ”مولوی“ کا لفظ استعمال  کیا جاتا رہا ہے اور وہیں سے ہمارے ہاں بھی وارد ہوکر عام استعمال میں آچکا ہے،جیسے ”مولوی معنوی“،”مولوی عبدالحق“ وغیرہ۔

الغرض یہ الفاظ اصطلاحی اعتبارسے ازراہِ احترام دین کے ماہر و مستند علما کے لیے ایجاد و استعمال ہوتے ہیں ۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

”مولوی اسی کو کہتے ہیں جو مولی والا ہو ،یعنی علم دین بھی رکھتا ہو اور متقی بھی ہو ،خوف ِخدا وغیرہ اخلاقِ حمیدہ رکھتا ہو۔“

( التبلیغ، ص: ۱۳۳، جلد اول بحوالہ تحفۃ العلماء از مولانا محمد زید، جلد اول، ص:۵۲، البرکۃ کراچی)

نیز لکھتے ہیں:”مولوی میں نسبت ہے مولی کی طرف، یعنی مولیٰ والا۔“              (ایضاً)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں