
جو لوگ ملک سے باہر مسافر ہیں، اور وہاں کاروبار کرتے ہیں، تو کیا ان پر قربانی واجب ہے؟
جو لوگ ملک سے باہر جا کر دوسرے ممالک میں کاروبار کرتے ہیں، اور وہاں جاکر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت سے اقامت اختیار کرتے ہیں، تو وہ شرعا مسافر نہیں کہلاتے، لہذا ان میں سے اگر کوئی شخص صاحب نصاب (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم) کا مالک ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔البتہ اگر کوئی شخص دوسرے ملک میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے اقامت اختیار کرتا ہے تو وہ شرعا مسافر کے حکم میں ہے، اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، باقی کرنے سے ثواب ملے گا۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية.
"(قوله والإقامة) فالمسافر لا تجب عليه وإن تطوع بها أجزأته عنها وهذا إذا سافر قبل الشراء، فإن المشتري شاة لها ثم سافر ففي المنتقى أنه يبيعها ولا يضحي بها أي لا يجب عليه ذلك، وكذا روي عن محمد. ومن المشايخ من فصل فقال: إن كان موسرا لا يجب عليه وإلا ينبغي أن يجب عليه ولا تسقط بسفره، وإن سافر بعد دخول الوقت قالوا ينبغي أن يكون الجواب كذلك اهـ ط عن الهندية ومثله في البدائع (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية."
(كتاب الأضحية، ج:6، ص:312، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101582
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن