
ایک بندہ پاکستان سے باہر ہے، اور وہ پاکستان میں نکاح کرنا چاہتا ہے، تو اس صورت میں اگر وہ اپنے بھائی کو وکیل بنائے، اور یہ بھائی اس کے لیے ایجاب و قبول کر لے، تو کیا یہ درست ہے ؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے اپنے نکاح کے لیے پاکستان میں اپنے بھائی کو وکیل مقرر کرنا جائز ہے، وکیل کی جانب سے مذکورہ شخص کی طرف سے نکاح کا ایجاب/قبول کرنا شرعا معتبر ہوگا، اور مذکورہ شخص کا نکاح شرعا درست ہوگا اور وکیل قبول کرتے وقت یہ کہے کہ میں نے اپنے موکل فلاں بن فلاں کے لیے قبول کیا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده."
(کتاب النکاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها، ج:1، ص:294، ط:دار الفکر)
فتح القدیر شرح الھدایہ میں ہے:
"قال (كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره) لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجة."
"وأما حكمها فجواز مباشرة الوكيل ما وكل به وثبوت حكمه للموكل."
(کتاب الوكالة، ج:7، ص:501، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100066
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن