بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ملازمین سے پردہ کا حکم


سوال

کیا ملازمین سے بھی پردے کا حکم ہے؟

جواب

آپ کے سوال کا مقصد اگریہ ہے کہ عورت کا گھر وغیرہ  کے ملازمین  سے پردہ ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عورت کے لیے غیر محرم ملازمین سے پردہ لازم ہے۔ اسی طرح عورت ملازم ہو تو اس کے لیے بھی اُس گھر کے غیر محرم مردوں سے پردہ لازم ہے، جہاں وہ ملازمت کرتی ہو۔

وہ افراد جن سے عورت کا پردہ نہیں  ہے، وہ یہ ہیں:
(1)  باپ  (2) بھائی  (3)  چچا   (4) ماموں   (5)  شوہر   (6) سسر   (7) بیٹا   (8)  پوتا   (9) نواسا   (10) شوہر کا بیٹا   (11) داماد   (12) بھتیجا   (13) بھانجا   (14) مسلمان عورتیں   (15) کافر باندی (16) ایسے افراد  جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ( مثلاً:  چھوٹے بچے جن کو  ابھی یہ سمجھ نہیں کہ عورت کیا ہے، جسے مرد اور عورت میں فرق ہی نہ معلوم ہو)

اس کے علاوہ تمام اجنبیوں سے عورت کا پردہ ہے  خواہ رشتہ دار ہو  ، ملازم ہو یا اجنبی ہو سب اس حکم میں برابر ہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200759

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں