
1.نفلی صدقہ کا مصرف کیا ہے؟ نفلی صدقہ کس کو دیا جا سکتا ہے؟
2.کیا دکان/ فیکٹری کے ملازمین کو نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے؟
1.نفلی صدقات کسی بھی خیر کے کام میں صرف کیے جاسکتے ہیں ، اس میں تملیک بھی شرط نہیں ہے اور مال دار اور اصول و فروع کو بھی نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے، بلکہ نفلی صدقہ میں افضل یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
"{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ}." (البقرة ٢١٥)
” لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیاچیز خرچ کیا کریں ۔آپ فرما دیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہو ، سو ماں، باپ کا حق ہےاور قرابت داروں کا ، اور بے پاپ کے بچوں کا اورمحتاجوں کا اور مسافرکا ، اور جو نسا نیک کام کروگے سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے۔“(بیان القرآن)
2.نفلی صدقات میں سے دوکان/فیکٹری کے ملازمین کو بھی دیا جاسکتا ہے ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"لا يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه ... وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة."
(کتاب الزکوٰۃ،فصل الذی یرجع الی المؤدی الیه،ج:2،ص:47،ط:دارالکتب العلمیه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100876
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن