بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمت میں حاضری دیے بغیر تنخواہ وصول کرنا/اپنی جگہ کسی اور کو اجرت پر لگانے کا حکم


سوال

ایک شخص EPI ادارے میں ملازم ہے۔ ہر ماہ یا چھ ماہ بعد، ادارے کی جانب سے علاقے میں پولیو مہم چلائی جاتی ہے، جس میں اس ملازم کو اضافی معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ادارہ اس ملازم سے کہتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ تین افراد مقرر کرے جو پولیو مہم کے دوران سامان اٹھانے، بچوں کی انگلیوں پر نشاندہی کرنے اور دیگر معاون کام انجام دیں۔

یہ ملازم اپنے بھائیوں یا قریبی رشتہ داروں کو ان تین افراد میں شامل کر لیتا ہے، ان کے شناختی کارڈز ادارے کو جمع کرواتا ہے اور ان کے نام پر اجرت وصول کی جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر وہ بھائی کام پر حاضر نہیں ہوتے، اور ملازم خود ہی تمام کام انجام دیتا ہے۔ وہ اپنے بھائیوں سے کہتا ہے کہ انہیں آنے کی ضرورت نہیں، وہ خود کام کر لے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ:

  1. کیا وہ اجرت جو بھائیوں کو دی جاتی ہے، ان کے لیے حلال ہے؟

  2. اگر وہ بھائی اپنی جگہ کسی اور شخص کو مقرر کر دےاور اسے اجرت بھی دے، اور EPI ملازم بھی اس پر راضی ہو، تو کیا یہ طریقہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب کسی فرد کا تقررکسی  ادارے میں بطور ملازم ہوتا ہے، تو شرعاً وہ شخص محبوس بالوقت  شمار ہوتا ہے، یعنی ادارے کے مقررہ اوقاتِ کار میں اس کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، خواہ اس دوران کوئی خاص کام نہ بھی لیا جائے۔ اس بنیاد پر، مذکورہ تین افراد اگر ادارے میں حاضر نہ ہوں اور صرف نام کے ذریعے اجرت حاصل کریں، تو ان کے لیے یہ آمدنی شرعاً حلال نہیں ہوگی۔

البتہ اگر ادارہ کسی ملازم کو یہ صریح اجازت دے دے کہ وہ اپنی جگہ کسی اور شخص کو مقرر کر سکتا ہے، یا ادارے کی پالیسی ایسی ہو کہ ملازم کو مطلق اختیار حاصل ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ افراد کے لیے کسی اور شخص کو اجرت  کےعوض کام پر لگانا شرعاً جائز ہوگا۔

 النتف فی الفتاوی میں ہے:

"والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی  وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت."

(  کتاب الاجارۃ، معلومیۃ الوقت والعمل،ج:2، ص:559، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والثاني) وهو ‌الأجير (‌الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل."

(کتاب الاجارہ، باب ضمان الاجیر، مبحث الاجیر الخاص، ج:6، ص:69، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره، أفاد بالاستئجار أنه لو دفع لأجنبي ضمن الأول

(قوله: بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك) هذا ظاهر إطلاق المتون وعليه الشروح، فما في البحر والمنح عن الخلاصة من زيادة قوله ولا تعمل بيد غيرك فالظاهر أنه لزيادة التأكيد لا قيد احترازي ليكون بدونه من الإطلاق تأمل.

(قوله: لايستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي.

قال في العناية: وفيه تأمل،؛ لأنه إن خالفه إلى خير بأن استعمل من هو أصنع منه أو سلم دابة أقوى من ذلك ينبغي أن يجوز اهـ وأجاب السائحاني بأن ما يختلف بالمستعمل فإن التقييد فيه مفيد وما ذكر من هذا القبيل اهـ.

وفي الخانية: لو دفع إلى غلامه أو تلميذه لا يجب الأجر اهـ.

وظاهر هذا مع التعليل المار أنه ليس المراد بعدم الاستعمال حرمة الدفع مع صحة الإجارة واستحقاق المسمى أو مع فسادها واستحقاق أجر المثل وأنه ليس للثاني على رب المتاع شيء لعدم العقد بينهما أصلا وهل له على الدافع أجر المثل؟ محل تردد فليراجع. (قوله: بشرط وغيره) لكن سيذكر الشارح في الإجارة الفاسدة عن الشرنبلالية أنها لو دفعته إلى خادمتها أو استأجرت من أرضعته لها الأجر إلا إذا شرط إرضاعها على الأصح، وكأن وجه ما هنا أن الإنسان عرضة للعوارض فربما يتعذر عليها إرضاع الصبي فيتضرر فكان الشرط لغوا تأمل (قوله وإن أطلق) بأن لم يقيده بيده وقال خط هذا الثوب لي أو اصبغه بدرهم مثلا؛ لأنه بالإطلاق رضي بوجود عمل غيره قهستاني."

( كتاب الاجارة، شروط الاجارة، ج:6، ص:18، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں