بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمت کی وجہ سے جمعہ کی نماز کا حکم


سوال

میں ایک پاور پلانٹ میں شفٹ انجینئر ہوں، اور جب جمعہ کو میری شفٹ ہوتی ہے تو جمعہ دفتر کی مسجد میں بھی جا کر نہیں  پڑھ سکتا، اور مجھے main control center میں رہنا پڑتا ہے، تاکہ کوئی transient ہو تو میں اس کے قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات فوراً لے سکوں۔

نوٹ: عام دنوں میں بھی نماز انفراداً اپنے کنٹرول سینٹر میں ہی پڑھنی پڑتی ہے۔  کیا اس صورت میں جمعہ معاف ہے؟ ایک ساتھی نے مجھے ایسا ہی بتا یا ہے کسی اہل علم سے پوچھ کر۔ اگر نہیں، تو میں کیا کروں؟ کیا کچھ ساتھی کو جمع کر کے کنٹرول سینٹر میں جمعہ قائم کرنافرض ہے؟ اگر ہاں، تو اس میں اذان اور خطبہ کی تفصیل ارسال فرما دیں۔

جواب

واضح رہے کہ ہر مسلمان عاقل وبالغ پر پانچوں وقت نماز ادا کرنا فرضِ عین ہے، اور ان نمازوں کا بالکل ترک کردینا  یا بلاعذرِ شرعی جماعت کا چھوڑ دینا شدید گناہ ہے، اور اپنے وقت پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا دیگر تمام امور سے مقدم ہے، کیوں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے وقت تمام کاموں کو ترک کردیتے تھے، جب کہ ملازمت ایسا عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے  کوئی نماز معاف ہوجائے، یاجماعت کو ترک کردیا جائے، اور حدیث میں باجماعت نماز پڑھنے کی بہت تاکید آئی ہے۔

  لہذا صورتِ مسئولہ میں ملازمت (کام) کی وجہ سے پنچگانہ نماز معاف نہیں ہوتی تو جمعہ جیسی اہم نماز کیسے معاف ہوسکتی ہے جب کہ بلا عذرِ شرعی لگاتار تین جمعہ چھوڑنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، ایسے شخص کا نام منافقین کے دفتر میں لکھ دیا جاتا ہے، نیز نماز باجماعت اور جمعہ کا قیام شعائرِ دین میں سے ہے اور اس میں مسلمانوں کے شان و شوکت کا اظہار بھی ہے، لہذا جمعہ اسی جگہ پڑھنا چاہیے کہ جس میں یہ فوائد ملحوظ رہیں، اس بناء پر صرف کا م کو عذر بناکر جمعہ کے لیے مسجد نہ جانا اور اپنے کنٹرول سینٹر میں پڑھنا شرعاً درست طریقہ نہیں،  نیز یہ عذر پیش کرنا کہ "تاکہ کوئی transient ہو تو میں اس کے قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات فوراً لے سکوں" تو اگر کنٹرول سینٹر میں ہی جمعہ پڑھنے کے دوران یہ مسئلہ پیش آجائے ، تو پھر اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ کیا نماز ہی چھوڑ دی جائے گی؟ لہذا  انتظامیہ سے مشورہ کرکے اپنے کام کی ترتیب ایسی بنالی جائے کہ جس میں آپ کو باجماعت نماز پڑھنے کا موقع مل سکتا ہو، اگر ایک آدمی کا رہنا ضروری ہو تو اپنی جگہ کسی متبادل شخص کو لگا کر جلدی نماز والی مسجد میں پڑھ کر آئے پھر دوسرا شخص دیر والی مسجد میں نماز پڑھے، انتظامیہ سے بات کرکے اس کی ترتیب بنادی جائے، تاہم اگر کبھی ایمرجنسی طور پر کنٹرول سینٹر میں ہی جمعہ پڑھنے کی نوبت آجاتی ہے،تو ایسی صورت میں  ضروری ہے کہ  امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مرد ہوں، چناں چہ جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد پہلی اذان دی جائے، پھر سنتیں ادا کی جائیں، اس کے بعد امام منبر یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ جائے اور اس کے سامنے دوسری اذان دی جائے، پھر امام منبر یا زمین پر کھڑے ہوکر دوخطبے  پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھا دے۔

سنن نسائی میں ہے:

"عن معدان بن أبي طلحة اليعمري، قال: «قال لي أبو الدرداء: أين مسكنك؟ قلت: في قرية دوين حمص فقال أبو الدرداء : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ‌ما ‌من ‌ثلاثة ‌في ‌قرية، ولا بدو، لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليكم بالجماعة، فإنما يأكل الذئب القاصية». قال السائب: يعني بالجماعة: الجماعة في الصلاة."

(كتاب الإمامة، التشديد في ترك الجماعة، ج: 2، ص: 106، رقم: 847، ط: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

 ترجمہ: "ابو درداء  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جس وقت کسی بستی یا جنگل میں تین افراد  ہوں اور وہ نماز کی جماعت نہ کریں تو سمجھ لو کہ ان لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے اور تم لوگ اپنے ذمہ جماعت سے نماز لازم کرلو، کیوں  کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو کہ اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوگئی ہو۔ حضرت سائب نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز باجماعت ہے۔"

صحیح مسلم میں ہے:

"عن علي بن الأقمر، عن أبي الأحوص، عن عبد الله؛ قال: من ‌سره ‌أن ‌يلقى ‌الله ‌غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن. فإن الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى وإنهن من سنن الهدى. ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم. ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم. وما من رجل يتطهر فيحسن الطهور ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة. ويرفعه بها درجة. ويحط عنه بها سيئة. ولقد رأيتنا وما يتخلف عنها إلا منافق، معلوم النفاق. ولقد كان الرجل يؤتى به يهادى بين الرجلين حتى يقام في الصف."

(كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب صلاة الجماعة من سنن الهدى، ج: 1، ص: 453، رقم: 654، ط: دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ: "علی بن اقمر نے ابو احوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: جو یہ چاہے کہ کل (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان (نمازوں) کے لیے بلایا جائے، ان نمازوں کی حفاظت کرے (وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انہیں ادا کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ (مساجد میں باجماعت نماز یں) بھی انہی طریقوں میں سے ہیں۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا، اپنے گھر میں پڑھتا ہےتو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ کوئی آدمی جو پاکیز گی حاصل کرتا ہے (وضوکرتا ہے) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے، جو وہ اٹھاتا ہے، ایک نیکی لکھتا ہے، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی (بھی) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا (بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آ دمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا، حتی کہ صف میں لاکھڑا کیا جاتا۔"

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثنا الأعمش قال: سمعت أبا صالح يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌صلاة ‌الرجل ‌في ‌الجماعة ‌تضعف على صلاته في بيته، وفي سوقه، خمسة وعشرين ضعفا، وذلك أنه: إذا توضأ فأحسن الوضوء، ثم خرج إلى المسجد، لا يخرجه إلا الصلاة، لم يخط خطوة، إلا رفعت له بها درجة، وحط عنه بها خطيئة، فإذا صلى، لم تزل الملائكة تصلي عليه، ما دام في مصلاه: اللهم صل عليه، اللهم ارحمه، ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة)."

(كتاب الجماعة والإمامة، باب: فضل صلاة الجماعة، ج: 1، ص: 232، رقم: 620، ط: دار اليمامة - دمشق)

ترجمہ: " ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی کہ میں نے ابو صالح سے سنا انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماعت کے ساتھ نماز گھر میں یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضوء کرتا ہے اور اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتا ہے پھر مسجد کا رخ کرتا ہے اور سوائے نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ نہیں ہوتا تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو ملائکہ اس وقت تک برابر اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلی پر بیٹھا رہتا ہے کہتے ہیں اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیے اے اللہ اس پر رحم کیجئے اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو اس کا شمار نماز ہی میں ہوگا۔"

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (لقد ‌هممت ‌أن ‌آمر ‌بالصلاة فتقام، ثم أخالف إلى منازل قوم لا يشهدون الصلاة، فأحرق عليهم)."

(كتاب الخصومات، باب: إخراج أهل المعاصي والخصوم من البيوت بعد المعرفة، ج: 2، ص: 852، رقم: 2288، ط: دار اليمامة - دمشق)

ترجمہ: "ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دے کر خود ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر کو جلا دوں۔"

السنن الکبری البیہقی میں ہے:

"عن علقمة، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " طلب ‌كسب ‌الحلال فريضة بعد الفريضة."

(‌‌كتاب الإجارة، ‌‌باب كسب الرجل وعمله بيديه، ج: 6، ص: 211، رقم: 11695، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌والجماعة ‌سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب... (وأقلها اثنان) واحد مع الإمام ولو مميزا أو ملكا أو جنيا في مسجد أو غيره.

(قوله: قال الزاهدي إلخ) توفيق بين القول بالسنية والقول بالوجوب الآتي، وبيان أن المراد بهما واحد أخذا من استدلالهم بالأخبار الواردة بالوعيد الشديد بترك الجماعة. وفي النهر عن المفيد: الجماعة واجبة، وسنة لوجوبها بالسنة اهـ... وقال في شرح المنية: والأحكام تدل على الوجوب، من أن تاركها بلا عذر يعزر وترد شهادته، ويأثم الجيران بالسكوت عنه، وقد يوفق بأن ذلك مقيد بالمداومة على الترك كما هو ظاهر قوله صلى الله عليه وسلم «لا يشهدون الصلاة» وفي الحديث الآخر «يصلون في بيوتهم» كما يعطيه ظاهر إسناد المضارع نحو بنو فلان يأكلون البر: أي عادتهم، فالواجب الحضور أحيانا، والسنة المؤكدة التي تقرب منه المواظبة. اهـ.

(قوله: في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الإمامة، ج: 1، ص: 552۔554، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزرا (بالأذان الأول) في الأصح.

(قوله: وترك البيع) أراد به كل عمل ينافي السعي وخصه اتباعا للآية نهر."

(‌‌كتاب الصلاة، باب باب الجمعة، ج: 2، ص: 161، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولأن الجمعة من أعظم الشعائر فتختص بمكان إظهار الشعائر."

(كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج: 1، ص: 259، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) السادس: (الجماعة) ‌وأقلها ‌ثلاثة ‌رجال (ولو غير الثلاثة الذين حضروا) الخطبة (سوى الإمام) بالنص لأنه لا بد من الذاكر وهو الخطيب وثلاثة سواه بنص - {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9].

(قوله: ‌وأقلها ‌ثلاثة ‌رجال) أطلق فيهم فشمل العبيد والمسافرين والمرضى والأميين والخرسى لصلاحيتهم للإمامة في الجمعة، إما لكل أحد أو لمن هو مثلهم في الأمي والأخرس فصلحا أن يقتديا بمن فوقهما، واحترز بالرجال عن النساء والصبيان فإن الجمعة لا تصح بهم وحدهم لعدم صلاحيتهم للإمامة فيها بحال بحر عن المحيط (قوله: ولو غير الثلاثة الذين حضروا الخطبة) أي على رواية اشتراط حضور ثلاثة في الخطبة أما على رواية عدم الاشتراط أصلا أو أنه يكفي حضور واحد فأظهر (قوله: سوى الإمام) هذا عند أبي حنيفة ورجح الشارحون دليله واختاره المحبوبي والنسفي كذا في تصحيح الشيخ قاسم (قوله: بنص {فاسعوا} [الجمعة: 9] لأن طلب الحضور إلى الذكر متعلقا بلفظ الجمع وهو الواو يستلزم ذاكرا فلزم أن يكون مع الإمام جمع وتمامه في شرح المنية."

(‌‌كتاب الصلاة، باب باب الجمعة، ج: 2، ص: 151، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144604102171

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں