
اگر ملازم تاخیر سےآئے تو اس پر شرعی حکم کیا ہوگا، مالک کس تناسب سے تنخواہ کاٹ سکتا ہے؟ یا شرعی طور پر کیا کیا کرسکتا ہے ؟
کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین، ملازمت کے آغاز میں طے پانے والے معاہدے کے شرعاً پابند ہوتے ہیں، ادارے کے ساتھ طے شدہ وقت ادارے کی امانت ہوتا ہے، لہٰذا ملازم پر لازم ہے کہ وہ ان اوقات کی مکمل پابندی کرے اور ادارے کو اتناہی وقت دے جو معاہدے میں مقرر کیا گیا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ملازمت کے آغاز میں معاہدے میں یہ بات شامل ہو کہ ڈیوٹی کے اوقات میں تاخیر کی صورت میں تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی، تو ایسی صورت میں اگر ملازم تاخیر سے آئے تو مالک کو شرعاً صرف اتنی ہی تنخواہ کاٹنے کی اجازت ہوگی جتنا وقت ملازم نے کام نہیں کیا۔ اس سے زیادہ کٹوتی کرنا جائز نہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"أن المدرس ونحوه إذا أصابه عذر من مرض أو حج بحيث لا يمكنه المباشرة لا يستحق المعلوم لأنه أراد الحكم في المعلوم على نفس المباشرة فإن وجدت استحق المعلوم وإلا فلا وهذا هو الفقه اهـ ملخصا."
(كتاب الوقف، فصل إجارة الواقف، ج: 4، ص: 419، ط: سعيد)
الدر مع الرد میں ہے:
"وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج: 6، ص: 70، ط: سعيد)
فتاویٰ محمودیۃ میں ہے:
”سوال [7214]: ملازمِ وقف دو دن کی رخصت لے کر گیا اور چھ روز میں آیا۔ دریافت یہ ہے کہ ملازم کو اس چار دن کی تنخواہ لینی کیسی ہے اور متولی کو دینا چاہیے کہ نہیں؟ فقط، والسلام۔
الجواب، حامداً ومصلياً:
اگر ملازمت کے شرائط میں یہ ہے کہ بلا تحصیلِ رخصت غیر حاضری پر تنخواہ وضع ہوگی، تو صورتِ مسئولہ میں تنخواہ وضع کی جائے گی۔ اگر شرائط میں کچھ مدت با تحصیلِ رخصت چھٹی پر رہنے اور حاضر نہ ہونے کی بھی موجود ہے، تو اس مدت کی تنخواہ وضع نہ ہوگی۔ غرض! حسبِ شرائط عمل کیا جائے، جب کہ وہ موافقِ شرع ہوں۔فقط واللہ اعلم۔“
(كتاب الوقف، باب ما يتعلق بالمدارس، الفصل الخامس في وظائف المدرسين، عنوان: ملازم کے لیے غیر حاضری کی تنخواہ، ج: 15، ص: 535، ط: فاروقیہ کراچی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101492
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن