
میں، محمد جنید، نے ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کی۔کمپنی کے ساتھ میرا یہ معاہدہ ہوا کہ میں صبح ساڑھے دس بجے سے شام سات بجے تک ڈیوٹی کروں گا، اس دوران میں کیش کی دراز کو سنبھالوں گا اور پیسوں کا حساب رکھوں گا۔
میں نے 23 دسمبر 2024ء سے یہ ڈیوٹی سنبھال رکھی ہے۔ اب حساب میں 15 لاکھ روپے کا فرق آیا ہے، یعنی ریکارڈ کے مطابق اتنی رقم جمع کی گئی ہے، لیکن کیش کم ہے۔ یہ کمی ایک ساتھ نہیں ہوئی، بلکہ ہر مہینے کے آخر میں جب حساب کیا جاتا تھا تو کسی مہینے میں ایک لاکھ، کسی میں دو لاکھ وغیرہ کی کمی پائی گئی۔
اب کمپنی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ رقم آپ پر واجب الادا ہے، جبکہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے یہ پیسے چوری نہیں کیے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ انہوں نے مجھے چھ ہزار روپے دیے کہ یہ فلاں فلاں چھ آدمیوں کو دے دو۔ میں نے وضو کرتے وقت وہ پیسے وضو خانے میں رکھ دیے۔ پیسے ایک چھوٹے ڈبے میں تھے جو جیب میں بھی آ سکتا تھا، لیکن میں نے وہ سامنے جگہ پر رکھ دیا اور بھول گیا، اور وہ پیسے گم ہوگئے۔ اب کمپنی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ آپ کی غفلت ہے، لہٰذا آپ کو یہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ میں ایک غریب آدمی ہوں، تو کیا یہ ظلم نہیں؟ اور کیا اس رقم کی ادائیگی مجھ پر لازم ہے؟
1- صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی سائل نے یہ 15 لاکھ روپے چوری نہیں کیے اور اپنی طرف سے دیانت داری سے کام کیاہے، تو شرعاً وہ اس رقم کا ضامن نہیں ہوگا۔
2- سائل کو جو چھ ہزار روپے دیے گئے تھے تاکہ وہ مقررہ افراد تک پہنچائے، اور اس نے وہ رقم وضو خانے میں رکھ کر بھول جانے کی وجہ سے ضائع کر دی، تو شرعی حکم کے مطابق سائل اس کا ضامن ہوگا، کیوں کہ یہ رقم سائل کے پاس امانت تھی اور سائل نے اس کی حفاظت میں کوتاہی (تعدی) کی ہے، اس لیے ایسی صورت میں شریعت میں امین پر تاوان (ضمان) لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا سائل پر یہ رقم اپنی طرف سے ادا کرنا ضروری ہے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"والأوجه أن يقال الأجير المشترك من يكون عقده واردا على عمل معلوم ببيان عملهوالأجير الخاص من يكون العقد واردا على منافعه ولا تصير منافعه معلومة إلا بذكر المدة أو بذكر المسافة. كذا في التبيين.
وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي.
وحكم الأجير المشترك أن ما هلك في يده من غير صنعه فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول زفر والحسن، وإنه قياس سواء هلك بأمر يمكن التحرز عنه " كالسرقة والغصب أو بأمر لا يمكن التحرز عنه كالحرق الغالب والغارة الغالبة والمكابرة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى إن هلك بأمر يمكن التحرز عنه فهو ضامن، وإن هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه فلا ضمان. كذا في المحيط.....وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه يحصل صيانة أموالهم. كذا في التبيين."
(کتاب الإجارۃ، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، ج:4، ص:500، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"قال: لو قال المودع: وضعت الوديعة بين يدي فقمت ونسيتها فضاعت ضمن، وبه يفتى، كذا في جواهر الأخلاطي.
ولو قال وضعت بين يدي في داري ثم قمت ونسيتها فضاعت ينظر إن كانت الوديعة مالا يحفظ في عرصة الدار ولا تعد حرزا له كصرة الدراهم والذهب ونحوهما يضمن وإلا فلا، كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الودیعة، ج:4، ص:342، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101568
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن