
میں ایک ادارے میں بطور سول ملازم کام کر رہا ہوں، اس ادارے میں ایک اسکیم رائج ہے، جس کے تحت ملازمین اپنے اہل خانہ کے علاج معالجے پر آنے والے اخراجات اس اسکیم سے وصول کر سکتے ہیں، اس اسکیم میں شامل ہونا اجباری ہے اور اس کے لیے سال میں دو مرتبہ اپنی بنیادی تنخواہ کا ایک فیصد جمع کروانا پڑتا ہے، یہ رقم تنخواہ سے خود بخود نہیں کاٹی جاتی، بلکہ ملازم اپنی ملکیت میں موجود رقم سے جمع کرواتا ہے۔
اب صورت مسئلہ یہ ہے اگر میں سالانہ تقریبا پانچ ہزار روپے اس اسکیم میں جمع کرواتا ہوں اور بوقت ضرورت اپنے اہل خانہ کے علاج پر ایک لاکھ روپے خرچ کروں، تو کیا اس صورت میں اس اسکیم سے وہ رقم وصول کر سکتا ہوں؟ کیا شرعاً میرے لیے اس اسکیم سے ایک لاکھ روپے وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے اور رعایات کے حصول کے لیے ملازم خود اپنی ملکیتی رقم اسکیم میں جمع کرواتا ہے تو کسی بھی علاج معالجے کی صورت میں ملازم کے لیے صرف اتنی رقم وصول کرنا جائز ہوگا جتنی رقم اس نے اسکیم میں جمع کروائی ہے، اس سے زائد رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا، لہذا اگر پانچ ہزار روپے جمع کروائے ہیں تو پانچ ہزار وصول کرنا ہی جائز ہو گا، ایک لاکھ وصول کرنا جائز نہیں؛ اس لیے کہ یہ جوے کی ایک صورت ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".
( کتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 403، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101184
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن