بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا کمیشن لینے کا حکم


سوال

میں ایک ادارہ کا ملازم ہوں ،میرا کام یہ ہے کہ میں کمپنی کو اس کی ضروری اشیاء مارکیٹ سےفراہم  کر دوں ،کمپنی کو اشیاء چاہیے ہوتی ہیں اس کے لیے مختلف لوگوں کو فون کرتا ہوں جو کم ریٹ دیتا ہے اس سے ہم مال خرید لیتے ہیں اور کمپنی اس کو رقم ادا کر دیتی ہے ،اگر ہم ایسا ہی کریں یعنی جو کم ریٹ پر دے اس سے مال لیں اور وہ ہمیں اس پر الگ سے کچھ کمیشن اپنی رضامندی سے  دے  تو آیا یہ کمیشن ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں ادارے کے ملازم کو ادارے سے تنخواہ ملتی ہے، اس لیے مذکورہ طریقہ سے کمیشن لینا جائز نہیں ہے، اور یہ کمیشن رشوت کے حکم میں ہے، اور رشوت لینا جائز نہیں ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا عليه قبل الإجارة لم تصح الإجارة؛ لأن من أتى بعمل يستحق عليه لا يستحق ‌الأجرة."

(کتاب الاجارۃ، ج:4، ص:191، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"لأنها لو أخذت ‌الأجرة لأخذتها على عمل ‌واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ."

(کتاب النفقہ، ج:4،ص:24،ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں