بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا کمپنی کے لیے خریداری میں بائع سے کمیشن لینے پر بائع کا کمپنی کو زیادہ بل بنا کر دینا


سوال

1- زید ٹیکسٹائل کی مشینوں کے مختلف پارٹس بنا کر اسے سپلائی کرتا ہے، کچھ کمپنیوں میں اس کے ملازمین آرڈر منگوانے کے بعد چائے پانی کے نام سے کمپنی کو بتائے بغیر کمیشن لیتے ہیں،  جو تقریبا 10 سے 20 فیصد تک ہوتا ہے، اور یہ کمیشن ہر آرڈر پر لیتے ہیں، اگر ان کو کمیشن نہ دو تو  وہ آرڈر نہیں لیتے اور کسی دوسرے سے مال منگوا لیتے ہیں جو ان کو کمیشن دیتے ہیں، اس وجہ سے زید کو بل بڑھا کربنا کر دینا پڑتا ہے، مثلا: کمپنی کا ایک لاکھ کا بل بنا ہے تو کمیشن ملاکر ایک لاکھ دس کا بل بنا کر دیتا ہے تاکہ اس کو نقصان نہ ہو، تو   ان ملازمین کو کمیشن دینا اوران کے لیے کمیشن لینا جائز ہےیا نہیں؟ اور کمیشن کی رقم نکال کر کیا آمدنی جائز ہو گی؟اس کی کوئی دوسری صورت ہو تو بتا دیں۔

 2- کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زید کمپنی کے ملازمین کو  خالی بل دے دیتا ہے کہ مجھے میرے اتنے پیسے دے دو اور آپ کو جو بل بنانا ہے بنالو، تو زید کا ایسا کرنا درست ہے؟

 3- اگر زید کمپنی کا جو  حقیقی بل بنا ہے وہی بنا کر دے اور کمپنی کے ملازمین کو کمیشن اپنے نفع میں سے دے، مثلا: 20 ہزار کا بل بنااور کمپنی کے ملازم نے 2 ہزار روپے کمیشن لیاتو زید 20 ہزار کا بل بنا کر دے اوراس کو20 ہزار میں چھ ہزار کا نفع ہونا تھا اس کے بدلے وہ چار ہزار روپے نفع لے، اپنا نقصان کر لے، تو کیا اس صورت میں کمپنی کے ملازمین کو کمیشن دینا جائز ہوگا؟

جواب

1- صورت مسئولہ میں زید کا آرڈر منگوانے والی کمپنی  کے ملازمین کے کمیشن طلب کرنے پرکمپنی کو بتائے بغیر ان کو کمیشن دینا اور زیادہ کا بل بنا کر دیناشرعا غلط بیانی اور دھوکہ دہی کی بناپر  نا جائز  ہے، اسی طرح کمپنی کے ملازمین کا کمپنی کو بتائے بغیر کمیشن لینا جائز نہیں ہے البتہ اس کی وجہ سے زید کی آمدنی حرام نہیں ہو گی۔

2- زید کا کمپنی کے  ملازمین کو خالی بل  دینا تاکہ وہ زید کو اس کی رقم دینے کے بعد  جو چاہیں بل بنا کر کمپنی کو دے دیں، یہ بھی دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر اعانت ہے جو کہ شرعا  ناجائز ہے۔

3- چونکہ کمپنی کا ملازم کمپنی سے اپنے کام کی تنخواہ لیتا ہے، لہذا اس کا کمیشن لینا اور اس کوکمیشن دینارشوت کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{‌وتعاونوا ‌على ‌البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم."

(سورۃ المائدة، ج: 3، ص: 301، ط: دار ابن الجوزي)

اعلاء السنن میں ہے:

"والحاصل: أن حد الرشوة هو ما يؤخذ عما وجب على الشخص سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية،  وسواء كان واجبا حقا للشرعء كما فى القاضى وأمثاله... أو كان واجبا عقدا كمن آجر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيما لهم أو عليهم كأعوان القاضى،وأهل الديوان وأمثالهم. كذا فى ”الكشاف“ للتهانوى."

(کتاب القضاء، باب الرشوة، ج: 12، ص: 64، ط: إدارۃ القران والعلوم الإسلامیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإن ‌ما ‌حرم أخذه حرم إعطاؤه كما في الأشباه أي إلا لضرورة فإذا كان الظالم لا بد من أخذه المال على كل حال لا يكون العاجز عن الدفع عن نفسه آثما بالإعطاء بخلاف القادر فإنه بإعطائه ما يحرم أخذه يكون معينا على الظلم باختياره تأمل."

(کتاب الزکاة، باب العشر، ج: 2، ص: 336، ط: دار الفکر)

موسوعۃ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

"اتفق الفقهاء على أن الغش حرام سواء أكان بالقول أم بالفعل، وسواء أكان بكتمان العيب في المعقود عليه أو الثمن أم بالكذب والخديعة، وسواء أكان في المعاملات أم في غيرها من المشورة والنصيحة."

(حرف الغین، الغش، ج: 31، ص: 219، ط: مطابع دار الصفوة)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704100455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں