
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، میری ڈیوٹی جنریٹر چلانے کی ہے اور چھوٹی موٹی خرابی ہونے کی صورت میں ان کو ٹھیک کرنا ہے، جنریٹر کے کسی پرزے میں خرابی پیدا ہو جانے کی صورت میں باہر کسی ورکشاپ سے ٹھیک کروانا کمپنی کی ذمہ داری ہے میرے ذمے نہیں، کمپنی جہاں سے ٹھیک کرواتی ہے، وہ کام بھی پائیدار نہیں کرتے اور قیمت بھی زیادہ لیتے ہیں، میرے ذاتی تعلقات کچھ لوگوں سے اس کمپنی میں کام کرنے سے پہلے کے ہیں، میں اگر ان سے وہ کام کرواؤں تو کا م بھی اچھا کریں گے اور قیمت بھی مناسب لیں گے کیا ان سے میں کمیشن لے سکتا ہوں؟ کیوں کہ یہ کام کروانا میری ذمہ داری بھی نہیں اور نہ کمپنی مجھے اس کی تنخواہ دیتی ہے اور وہ ورکشاپ والے میرے ذاتی تعلق کی بنا پر مجھے کمیشن دیں گے ۔اور کمپنی ان سے کام کی قیمت خود طے کرتی ہے، البتہ وہ میری جان پہچان کی وجہ سے کمپنی کو مناسب قیمت لگاتے ہیں اور کمیشن کمپنی کے پیسوں سے نہیں لیا جاتا۔
صورت ِ مسئولہ میں جنریٹر بنوانے کے لیے اگر سائل کمپنی والوں کے کہنے پر کسی جنریٹر بنانے والی کمپنی سے رابطہ کرے گا تو ایسی صورت میں سائل کمپنی کی طرف سے وکیل ہےاور وکیل امین (امانت دار) ہوتا ہے جس کے ذمے تمام معاملات کی آگاہی اپنے مؤکل کو دینا ہوتی ہے؛لہذا سائل کے لیے جنریٹر بنوانے پر دکان دار سے کمیشن لینا جائز نہیں ہے،تاہم اگرسائل اپنے مالک( ٰکمپنی )کے علم میں لاکر یہ عمل کرلے اور کمپنی اسے اجازت دے دے تو یہ صورت جائز ہے۔یا اگر سائل از خود کمپنی کو آمادہ کرے کہ وہ سائل کی متعین کردہ کمپنی سے کام کرائے اور اس پر سائل اس جنریٹر بنانے والی کمپنی سے اپنا کمیشن لے جو کمپنی اپنے منافع سے ادا کرے ،اور اس وجہ سےسائل کی کمپنی سے اضافی رقم وصول نہ کرے تو یہ کمیشن لینا جائز ہوگا ۔
درر الحکام میں ہے :
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل۔۔۔۔لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
(الکتاب الحادی عشر الوکالة،ج:3،ص:573،دارالجیل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100100
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن