
1- میں ایک عام مسلمان ہوں ،اسلام کے بارے میں مجھے بہت کم معلومات ہیں،چھ کلمے نماز اور روزے تک محدود ہی معلومات ہیں۔ میں کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں، اب فرصت کی حالت میں بیٹھ کر با وضو تو نماز والا درود شریف (درودابراہیمی)پڑھ لیتا ہوں ،لیکن میں چاہتا ہوں کہ چلتے پھرتے وضو کی حالت ہو یا غیر وضو کی حالت ،ہر وقت درود شریف کا ذکر کروں ۔
میرا یقین ہے کہ سارے درود شریف مکمل ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں درود ابراہیمی کے علاوہ کسی ایسے درود شریف کا ورد کروں جو اللّٰه سبحانہ تعالٰی کے حکم کی تکمیل بھی ہو ،سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی ہو، اور حضرات صحابہ کرام کے عمل میں بھی ہویعنی ہر لحاظ سے جامع اور مختصر ہو۔
2- اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ درود شریف پڑھے کہ میں اپنے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں درود شریف کا ہدیہ بھیجتا ہوں پوری امت کی طرف سے ،اور اس درود شریف کا ثواب ہدیہ کرتا ہوں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کی تمام امت کو تو کیا اس سے امت کو نفع پہنچے گا ؟
1- احادیث میں آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے متعلق کئی فضائل وارد ہوئے ہیں۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے:
"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحطت عنه عشر خطيئات ورفعت له عشر درجات" . رواه النسائي."
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور دس گناہ اس کے معاف کئے جاتے ہیں اور دس درجات اس کے لئے بلند کئے جاتے ہیں۔
اگر درود ابراہیمی کے علاوہ کسی اور مختصر درود کا ورد آپ کو کرنا ہو،تو درج ذیل درودوں میں سے کسی درود کا انتخاب کرکے اس کا ورد کرلیا کریں:
1- صلی اللہ علیہ وسلم.
2- اللهم صل على محمد وعلى آل محمد.
3- وصلی اللہ علی النبي الأميّ.
4- وصلی اللہ علی النبيّ محمد.
5- جزى الله عنا محمدا ما هو أهله.
2- اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ آپ ﷺ پر درود پڑھتا ہے کہ یہ پوری امت کی طرف سے حضورﷺ کے لئے تحفہ ہے،اور یہ نیت بھی کرتا ہے کہ اس کا ثواب حضورﷺ کی امت کو پہنچے تو اس سے امت کو نفع یقیناًپہنچتا ہے۔
البحرالرائق میں ہے:
"والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة أما الكتاب فلقوله تعالى {وقل ربي ارحمهما كما ربياني صغيرا} [الإسراء: 24] ، وإخباره تعالى عن ملائكته بقوله {ويستغفرون للذين آمنوا} [غافر: 7] وساق عبارتهم بقوله تعالى {ربنا وسعت كل شيء رحمة وعلما فاغفر للذين تابوا واتبعوا سبيلك} [غافر: 7] إلى قوله {وقهم السيئات} [غافر: 9] ، وأما السنة فأحاديث كثيرة منها ما في الصحيحين حين ضحى بالكبشين فجعل أحدهما عن أمته ، وهو مشهور تجوز الزيادة به على الكتاب، ومنها ما رواه أبو داود "اقرءوا على موتاكم سورة يس."
(كتاب الحج،باب الحج عن الغير،ج: 3،ص: 63،ط: دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101144
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن