
کیا استخارہ اس نیت سے کیا جا سکتا ہے کہ میرے لیے کون سا وظیفہ زیادہ بہتر یا مؤثر ہے؟ یعنی میں مختلف وظائف میں سے انتخاب کے لیے استخارہ کروں کہ کون سا وظیفہ اختیار کرنا چاہیے؟ اگر یہ طریقہ درست نہیں ہے تو پھر راہ نمائی فرمائیں کہ کسی خاص مقصد (جیسے رزق، شادی یا پریشانی) کے لیے مناسب وظیفہ کیسے منتخب کیا جائے؟
واضح رہے کہ استخارہ کسی بھی مباح کام میں خیر معلوم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے ۔ وظائف میں خیر ہی خیر ہے، لہذا س میں استخارہ نہیں ہو تا۔
کسی بھی خاص مقصد (رزق، شادی یا پریشانی) کے لیے وظیفہ منتخب کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں مذکور ”ادعیہ ماثورہ“ (مسنون دعاؤں) کو ترجیح دی جائے، کیونکہ ان میں خیر و برکت یقینی ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی مصلح یا شیخِ کامل سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو، تو اس کے لیے وظائف کا انتخاب اپنے شیخ کے مشورے سے کرنا چاہیے، کیونکہ وظائف "روحانی ادویات" کی طرح ہیں اور شیخ ایک روحانی معالج کی حیثیت سے مرید کی استعداد کے مطابق بہتر نسخہ تجویز کر سکتا ہے۔ وظیفے کی قبولیت کے لیے فرائض کا اہتمام، رزقِ حلال اور گناہوں سے اجتناب بنیادی شرائط ہیں۔
سنن الترمذی میں ہے:
"حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الرحمن بن أبي الموالي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن."
ترجمہ:”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہم (صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہم) کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔“
(أبواب الوتر، باب ما جاء في صلاۃ الاستخارة، ج: 2، ص: 345، رقم الحدیث: 480، ط:مصطفى البابي الحلبي مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100348
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن