
ایک شخص نے مختلف مواقع پر اپنی بیوی کی طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا۔ تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا موقع:رمضان المبارک میں مسلسل ایک ہفتے تک مہمان آتے رہے۔ بیوی نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا، جس پر شوہر غصے میں آگیا اور کہا: ”اگر میں رمضان المبارک کے مہینے میں کسی کو مہمان کے طور پر گھر لایا، تو تم مجھ پر تین طلاق۔“ دوسرا موقع: خالہ کے خاندان سے اختلافات کی بنا پر میاں بیوی میں تکرار ہوئی۔ اس دوران شوہر نے کہا: ”اگر تم اپنی خالہ کے گھر گئیں، تو تم پر تین طلاق۔“ تیسرا موقع: بیوی سے بحث و تکرار کے دوران شوہر نے کہا: ”اگر میں تمہارے ساتھ کعبہ گیا، تو تم مجھ پر طلاق۔“ چوتھا موقع: بیٹے کی شادی کی منصوبہ بندی اور تیاریوں کے دوران، بیٹے سے وقتی ناراضگی کی حالت میں شوہر نے کہا: ”اگر میں اپنے بیٹے کو شادی میں ایک روپیہ بھی دوں، تو تم مجھ پر طلاق۔“
اب تک ان چاروں شرطوں میں سے کوئی بھی شرط واقع نہیں ہوئی، لہٰذا یہ تمام طلاقیں اب تک معلق ہیں اور واقع نہیں ہوئیں۔ مگر ان جملوں کی وجہ سے پورا گھرانہ( میاں، بیوی، بیٹے، بیٹیاں اور دیگر اقارب ) شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ گھریلو زندگی میں تنگی اور خوف پیدا ہوگیا ہے، مزید یہ کہ خالہ بیمار ہیں اور ان کی عیادت ضروری ہے، رمضان میں مہمان نوازی جیسی سعادت سے محرومی تکلیف دہ ہے، اور میاں بیوی حج و عمرہ کی سعادت بھی اطمینان کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اب یہ شخص چاہتا ہے کہ یہ تمام پابندیاں ختم ہوجائیں، تاکہ گھر کا ماحول محبت اور صلہ رحمی پر قائم رہے، رشتہ داروں کا آنا جانا بحال ہو، اور حج و عمرہ جیسے نیک اعمال سکون سے انجام دیے جا سکیں۔ لہٰذا گزارش ہے کہ کوئی ایسا طریقہ بتا دیا جائے جس سے مذکورہ صورت میں اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع نہ ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں تین طلاق سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ مذکورہ شخص اپنے بیٹے کو شادی کے لیے پیسے دے دے،جس کی وجہ سے اس کی بیوی پر ایک رجعی طلاق واقع ہو کر اس کی عدت شروع ہو جائے گی۔ عدت کے دوران وہ شخص نہ قولاً رجوع کرے (مثلاً یہ کہنا: ”میں رجوع کرتا ہوں“یا اس جیسے دیگر الفاظ کہنا جو رجوع پر دلالت کرتے ہوں)، اور نہ عملاً رجوع کرے (جیسے بیوی سے ہمبستری، بوس و کنار یا شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا وغیرہ)۔
جب بیوی کی عدت(یعنی پوری تین ماہواریاں اگر عورت حاملہ نہ ہو، اور حمل کی صورت میں وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش تک) مکمل ہو جائے،تو عدت کے بعد باقی تین شرطوں کو بھی پورا کر لیا جائے، یعنی مذکورہ شخص کی بیوی اپنی خالہ کے گھر چلی جائے، وہ شخص رمضان المبارک میں کسی کو مہمان کے طور پر اپنے گھر لے آئے، اور عورت کے کسی محرم کو ساتھ لے کرشرعی پردہ کالحاظ رکھتے ہوئے دونوں عمرہ یا حج کی سعادت حاصل کریں، اس طرح تمام شرطیں پوری ہو جائیں گی، لیکن چونکہ اس وقت عورت اس شخص کے نکاح میں نہیں ہوگی، اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اس کے بعد دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرلیں۔ نکاح کے بعد مذکورہ اعمال میں سے کوئی عمل کرنےسے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ کے لئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، بشرطیکہ اس رجعی طلاق سے پہلے کوئی اور طلاق واقع نہ ہوئی ہو۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها."
(كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3، ص:355، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101412
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن