بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1448ھ 04 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مختلف مواقع پر تین طلاقیں دینا


سوال

میری دو بیویاں تھیں، جن کی آپس میں کچھ لڑائی ہوئی ، تو میری ایک بیوی نے دوسری بیوی کے بچوں کو بد دعا دینا شروع کردی، جس پر میں نے اسے کہا کہ : "تجھے ایک  طلاق ہے" اور پھر میں نے کہا کہ اگر آئندہ بد دعائیں دو گی، تو میں دوسری طلاق دوں گا، تین دن کے بعد دوبارہ وہ بد دعائیں دینے لگی، میں نے اسے کہا کہ "تو مجھے طلاق ہے اور اگر آئندہ ایسی حرکت کی تو میں تجھے  بالکل فارغ کردوں گا، پھر ایک دن بعد جب تیسری مرتبہ اس نے بد دعائیں دیں، تو میں نے اسے کہا کہ: "دو دفعہ میں نے طلاقیں دی تھیں، ابھی یہ تیسر طلاق ہے، اب معاملہ ختم، ابھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔"

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت  میں میری بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر واقع ہوئی ہو، تو کتنی؟ نیز کیا ایسی بیوی کو دوبارہ رکھنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مختلف اوقات میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع کی یا مزید ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان ‌الطلاق ‌ثلاثا ‌في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر)

مطلقہ عدت مکمل کرنے کے بعد اگر کسی اور شخص سے شادی کرتی ہے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد اگر شوہر ثانی اس کو طلاق دے دتیا ہے، تو عدت مکمل کرنے کے بعد وہ شوہر اول سے نکاح کرسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں