
میرا کاروبار الیکٹریکل سروسز سے متعلق ہے،بعض دفعہ کسٹمر مجھے کوئی ایسی چیز مثلا کوئی ڈرائیو یا کوئی الیکٹرانک کارڈ ریپیئرنگ کے لیے دیتا ہے تو اس میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کتنا ٹائم لگے گا، کون کون سے پرزے خراب نکلیں گے، بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سا ٹائم خرچ کرنے کے بعد بھی وہ کارڈ وہ پرزہ ٹھیک نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مزدوری کیسے طے کریں؟ سننے میں آیا ہے کہ کام کی اجرت پہلے سے طے ہونی چاہیے۔ مگر جس کام کا پتہ ہی نہیں کہ کتنا وقت لگے گا اور کیا کیا چیزیں لگیں گی، اس کی مزدوری کیسے طے کی جائے؟ اور یہ بھی کہ اگر وہ کام نہ ہو سکا یا وہ پرزہ ٹھیک ہی نہ ہو سکا اس صورت میں جو میرا وقت خرچ ہوا، جو اوزار استعمال ہوئے، ان کی اجرت کیسے طے کی جائے؟ عام طور پہ کسٹمر چیز کے ٹھیک ہونے پہ ہی پیسے دیتے ہیں؟ اسی طرح بعض اوقات کسٹمر کسی مشین کو اپ-گریڈ کروانے کے لیے مجھے بلاتے ہیں۔ ان میں سے بعض کام ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سے متعلق ہوتے ہیں جس میں کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ جو پرزے شروع میں لگائے جا رہے ہیں وہی کام کریں گے یا بعد میں ان میں تبدیلی بھی کی جائے گی، نہ ہی یہ کوئی اندازہ ہوتا ہے کہ کتنا وقت لگے گا، بعض اوقات پورا پروجیکٹ فیل بھی ہو جاتا ہے یا ہو سکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں، میں کوٹیشن کیسے تیار کروں یعنی پارٹس کی قیمت اور مزدوری کیسے طے کی جائے؟
اجارے اور مزدوری کے معاملے میں اجرت (مزدوری) پہلے سے طے کرنا ضروری ہے، ورنہ اجارہ فاسد ہوجاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے لیے پہلے سے اندازہ لگانا ممکن نہ ہو کہ خراب چیز کو ٹھیک کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟ کیا کیا پرزے لگیں گے؟ وغیرہ وغیرہ، جس کی وجہ سے پہلے سے اجرت طے کرنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں آپ اپنے کام کی اجرت مرحلہ وار طے کرلیں، یعنی جب کوئی شخص آپ کے پاس خراب چیز ٹھیک کروانے کے لیے آئے تو آپ پہلا عقد یوں کریں کہ میں پہلے اس چیز کا معائنہ کروں گاتاکہ خرابی کی نوعیت کا پتہ چل سکے اور چوں کہ اس معائنہ کرنے میں میرا وقت لگے گا اور اوزار استعمال ہوں گے تو اس معائنے کے عوض میں اتنی اجرت لوں گا، پھر معائنے کے بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس چیز میں یہ خرابی ہے اور اس خرابی کی مرمت کا معاوضہ اتنا ہوگا، اگر آپ راضی ہوں تو مرمت کروالیجیے گا، ورنہ مت کروایے گا، نیز اگر پرزوں کے بارے میں بھی یقین نہ ہو کہ کس قسم کے اور کتنے لگیں گے تو اس کا عقد بھی الگ سے کرلیں، مثلا یوں معاہدہ کرلیں کہ مرمت کی اجرت میں پرزوں کی قیمت شامل نہیں ہوگی، جو بھی پرزہ لگے گا اس کی قیمت الگ سے بتاکر وصول کی جائے گی۔
حدیث شریف میں ہے:
"حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن حماد، عن إبراهيم، عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن استئجار الأجير ولم يبين، يعني حتى يبين له أجره»."
(المراسيل لأبي داود (ص: 167)، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا ... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."
(کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، 4/ 411، ط:دار الفکر)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"استأجره ليبني له حائطا بالآجر والجص وعلم طوله وعرضه جاز. كذا في محيط السرخسي."
(كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة4/ 451، ط: رشيدية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة،6/ 46، ط:سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يعلم النفع أيضا ببيان (العمل كالصياغة والصبغ والخياطة) بما يرفع الجهالة، فيشترط في استئجار الدابة للركوب بيان الوقت أو الموضع، فلو خلا عنهما فهي فاسدة بزازية. (و) يعلم أيضا (بالإشارة كنقل هذا الطعام إلى كذا).
(قوله بما يرفع الجهالة) فلا بد أن يعين الثوب الذي يصبغ ولون الصبغ، أحمر أو نحوه وقدر الصبغ إذا كان يختلف.
وفي المحيط: لو استأجره لقصر عشرة أثواب ولم يرها فالإجارة فاسدة؛ لأنه يختلف بغلظه ورقته ذكره في البحر (قوله بيان الوقت أو الموضع) قال في البزازية: استأجر دابة ليشيع عليها أو يستقبل الحاج لا يصح بلا ذكر وقت أو موضع. وفيها: استأجرها من الكوفة إلى الحيرة يبلغ عليها إلى منزله ويركبها من منزله وكذا في حمل المتاع. وفيها: استأجر أجيرا ليعمل له يوما فمن طلوع الشمس بحكم العادة (قوله فهي فاسدة) أي فلا يجب أجر المثل إلا بحقيقة الانتفاع ط
(قوله بالإشارة إلخ) ؛ لأنه إذا علم المنقول والمكان المنقول إليه صارت المنفعة معلومة، وهذا النوع قريب من النوع الأول زيلعي."
(كتاب الإجارة، شروط الإجارة،ج:6، ص: 9، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144606100951
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن