
کیا فرماتے ہیں علماء کرام دریں مسئلہ ، جس کے متعلق ہمارے علماء کرام میں اختلاف چل پڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا گاؤں( تکیل) جو ایک پہاڑی اور دیہاتی علاقہ ہے۔ اس گاؤں کے ارد گرد آبادی سے باہر گاؤں( تکیل )کے رقبہ میں کچھ فاصلے پرآ بادیوں میں کچھ لوگ بستے ہیں جن میں بعض بادیہ نشین مثلاً انور شاہ بانڈہ گاؤں کی آبادی سے دور دو، تین (2، 3 ) کلومیٹر پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور بعض باد یہ نشین مثلاً میاں نورآباد بانڈہ گاؤ ں کی آبادی سے چار پانچ (4،5) کلومیٹر دور زندگی گزار رہے ہیں، دیگر آبادیاں بھی ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم گاؤں والے جب سفر شرعی پر نکلتے ہیں، تو ہم پر احکام سفر یعنی قصر وغیرہ کہاں سے لاگو ہوں گے، کیا اپنے گاؤں( تکیل) کی آبادی سے جب ہم نکلتے ہیں تو قصر کریں گے یا اطراف واکناف میں بسنے والے ان بادیہ نشین لوگوں کی آبادی سے نکلنے کی صورت میں قصر کریں گے،اسی طرح سفر سے واپسی پر ان بادیہ نشین لوگوں کی آبادی میں پہنچ کر ہم مقیم شمار ہوں گے یا اپنے گاؤں کی آبادی میں داخل ہونے کی صورت میں ہم مقیم شمار ہوں گے؟
دوسرا یہ کہ رائیونڈکی تبلیغی جماعت جب ہمارے گاؤں آ جائے اور ان کی تشکیل بیس ، پچیس (20، 25 ) دن کی ہو، تو گاؤں کے اندر چونکہ فقط ایک جامع مسجد ہے ۔تین دن گاؤں کے اندر جامع مسجد میں گزار کر تشکیل کے باقی ایام بادیہ نشین لوگوں کی مساجد میں گزارتے ہیں، تو یہی تبلیغی حضرات یہاں گاؤں اور بادیہ کی مساجد میں مقیم شمار ہو کر پوری نمازیں پڑھیں گے یا قصر کریں گے ؟
اب بعض مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ جب گاؤ ں اور بادیہ کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ ہے اور درمیان میں خارج زرعی زمین اور پہاڑ بھی واقع ہیں۔ تو ان میں سے ہر ایک علیحدہ مکان شمار ہوگا اور ہر ایک کی اپنی حدود اور حیثیت معتبر ہوگی، لہٰذاگاؤں والے جب اپنے گاؤں کی آبادی سے نکلیں گے، تو قصر کریں گے اگرچہ ابھی تک بادیہ کی آبادی سےنہ نکلے ہوں ، اسی طرح تبلیغی جماعت والے حضرات مسافر شمار ہو اپنی جماعت کرانے کی صورت میں قصر پڑھیں گے۔
ان مولوی صاحبان کے پاس اپنے مدعی پر کئی سارے دلائل بھی موجود ہیں جو درج ذیل ہیں:
فریق اول کے دلائل دلیل (1) : مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
" شہر کی جس جانب سے بنیت سفر نکل رہا ہو اس جانب کے مکانات سے باہر نکلنے پر حکم قصر شروع ہوتا ہے، مکانات سےآباد مکان مرادہیں۔ غیرآباد کھنڈرات کا اعتبار نہیں، اسی طرح بوقت واپسی مکانات کی حدود میں داخل ہونے پر حکم قصر ختم ہو جاتا ہے، مکان خواہ پختہ ہوں یا شہر سے ملحق جھونپڑیاں وغیرہ ہوں، بلکہ جھونپڑیوں کے بعد ان سے متصل بستی بھی اس شہر کے حکم میں ہے ۔"
(احسن الفتاوی ج:4، ص:72،ایچ ایم سعید کمپنی)
حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کےفتویٰ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قصر کا تعلق آبادی سے ہے نہ کہ زمینی حدود اور رقبہ سے کیونکہ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے غیرآباد کھنڈرات کا بھی اعتبار نہیں کیا ہے۔ تو خالی زمین بطریق اولیٰ اس میں شامل نہیں۔
دلیل (2) : علامہ مفتی شبیر احمد القاسمی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
" سفر شرعی کی نیت سے اپنے گاؤں سے باہر نکلتے ہی قصر کا حکم لگ جاتا ہے ۔شہر سے تجاوز کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس میں شہر کا کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف اپنی بستی اور آبادی ہی کا اعتبار ہوتا ہے۔ لہذا واپسی میں بھی شہر میں پہنچنے سے قصر کا حکم ختم نہ ہوگا ،جب تک کہ اپنی بستی کی آبادی میں داخل نہ ہو جائے۔ "عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه: أنه كان يقصر الصلاۃ حين يخرج من بيوت المدينة يقصر إذا رجع حتى يدخل بيوتها."(مصنف عبد الرزاق باب المسافر متى يقصر إذا خرج مسافرا۔ المجلس العلمي2/530 رقم 4323 ) " عن أبي حرب بن ربی أسود الديلمي أن علیا لما خرج إلی البصرۃ رأی خصا ، فقال لولا هذا الخص لصلینا ركعتين، فقلت ما خصا؟ قال بيت قصب ."( مصنف عبد الرزاق، باب مثل بالا المجلس العلمي جلد2/529۔ رقم4319 ) "من خرج من عمارۃ مو ضع إقامته قاصدا ."(تنوير 1/البصائر كتاب الصلاه باب صلاۃ المسافر كراتشي2/221۔زكريا2/599)"وکذا إذا عاد من سفره إلى مصر لم يتم حتى يدخل العمران "(البحر الرايق كتاب الصلاۃ باب المسافر ، زکریا 2/226،کوئتہ: 2/128 کبیری صلاۃ المسافر ،اشرفیہ 539 )۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم کتبہ شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ 14/رجب 1418ھ الف فتوی نمبر : 33/5399."
(فتاوی قاسمیہ، ج:8، ص:584، ط:وحیدی کتب خانہ پشاور)
دلیل (3)فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:
"قال محمد يقصر حين يخرج من مصرہ ويخلف دورالمصروفی الغیاثية والمعتبر من الخروج أن يجاوز المصر و عمراناته هو المختار، وعليه الفتوى."
(کتاب لصلاۃ، باب صلاۃ لمسافر، ج:2، ص:493، ط:مکتبة زکریا بدیوبند الھند)
دلیل (4):
" إذا جاوز المقيم عمران مصرہ قاصدا مسيرۃ ثلاثة أيام وليالیها بسير الإبل أومشي الأقدام يلزمه قصر الصلاۃ ويرخص له ترك الصيام."
(فتاوی قاضی خان، كتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج:1، ص294، ط: رشیدیة)
دلیل (5):
قال الامام الحافظ احمد بن علي بن حجر العسقلاني رحمه اللہ:
" قال ابن المنذر أجمعوا على أن لمن يريد السفر أن يقصر إذا خرج عن جميع بيوت القرية التي يخرج منها."
(فتح الباري، ج:2، ص:725، ط:قديمی کتب خانه)
فریق دوم کے علماء کرام فرماتے ہیں کہ گاؤں تکیل اور اس کے اطراف و اکناف میں رہنے والے بادیہ نشین سب ایک آبادی کےحکم میں ہیں۔لہٰذا گاؤں والوں کا سفر بادیہ کی آخری آبادی سے نکلنے کی صورت میں شروع ہوگا، اور یہاں پر آنے والے تبلیغی حضرات جب پندرہ (15) یا اس سے زائد دنوں کا قیام کریں گے تو مقیم شمار ہو کر پوری نماز پڑھیں گے ۔ ان مولوی صاحبان کے پاس سوائے عرف وتعامل کے کوئی معتبر اورٹھوس دلیل نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ سب چونکہ ایک گاؤں کی طرف منسوب ہوتے ہیں اورعرف میں گاؤں اور مذکورہ بادیہ کے رہنے والے ہر ایک کو تکیلی یعنی تکیل کا رہنے والا کہا جاتا ہے اس وجہ سے گاؤں اور بادیہ کی آبادی میں کوسوں فاصلہ ہونے کے باوجود یہ حکماً ایک ہی آبادی شمار ہو گی ۔ اور ان دونوں کی آبادی سے نکلنے پر احکام سفر شروع ہوں گے۔ فریق اول فریق دوم کی دلیل سےیہ جواب کرتے ہیں کہ عرف وہاں معتبر ہوگا جہاں کوئی دلیل شرعی موجود نہ ہو، اگر کسی مسئلہ میں دلیل شرعی موجود ہوتو پھر عرف کا اعتبارنہیں ہوگا۔
دلیل: شرح المجلة میں ہے:
( استعمال الناس حجة یجب العمل بھا )۔۔۔ یعنی ان عادۃ الناس إذا لم تکن مخالفة للشرع حجة و دلیل یجب العمل بھا، لأن العادۃ محکمة)."
( شرح المجلة، ج:1، ص:86، المادۃ:37، ط:الحقانیة)
باقی گاؤں تکیل کی طرف منسوب ہونے والی بات کہ سب کو ایک ہی نام سے سمجھا جاتا ہے تو اس کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
اگر کوئی آبادی ایسی ہو کہ اہل عرف اس کے مجموعہ اجزاء کو باوجود کسی قدرفصل کی ایک آبادی سمجھتے ہوں وہاں مجموعہ کا اعتبار کیا جائے گا لیکن صرف ایک نام کافی نہیں کیونکہ ضلع و قسمت کا نام بھی ایک ہی ہوتا ہے بلکہ وحدۃ تسمیہ کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو ایک ہی آبادی سمجھتے ہوں۔ واللہ اعلم۔"
(امداد الفتاوی، جلد:1، ص: 484، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
حضرت والا نے ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ کسی قدر فصل کے ساتھ یعنی شہر یا گاؤں میں آبادیاں زیادہ فصل کے ساتھ نہ ہوں ۔دوسری بات یہ لکھی ہے کہ اس کو ایک ہی آبادی سمجھتے ہوں اور یہ دونوں باتیں گاؤں تکیل کے اطراف والےآبادیوں میں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ کافی فصل کے ساتھ آباد ہیں اور ان آبادیوں کو عرف میں بھی ایک ہی آبادی نہیں سمجھتے ہیں۔ پس براہ کرم ان علماء کرام میں سے جن کا مؤقف درست ہو تو دلائل کی روشنی میں اس کی تصویب فرماکر مسئلہ شرعیہ کوواضح فرمائیں۔
واضح رہے کہ شرعی مسافر کے لئے موضع سفر (دیہات یا شہر) کی حدود سے نکلنے کے بعد قصر کرنا جائز ہوتا ہے، پس اگر کوئی شرعی مسافت ِسفر کی نیت سے دیہات یا شہر سے سفر شروع کرے تو دیہات یا شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد قصر کرے گا۔
1۔صورت مسئولہ میں مذکورہ بادیہ انور شاہ بانڈہ اور نور آباد بانڈہ گاؤں تکیل کا حصہ نہیں، بلکہ اس گاؤں سے کافی فاصلہ پر واقع ہیں اور ان کے درمیان کھیتوں اور پہاڑوں کا بھی فاصلہ ہے، بحیثیت گاؤں نام بھی الگ الگ ہیں، لہذا تکیل گاؤں کا رہنے والا جب سفر شرعی کی نیت سے تکیل کی حدود سے نکلے گا، تو قصر کرے گا، مذکورہ بادیہ کی حدود کا اعتبار نہیں ہوگا، اسی طرح تکیل کا رہنے والا جب سفر سے واپس لوٹے گا تو مذکورہ بادیہ کی حدود میں وہ مقیم شمار نہیں ہوگا، بلکہ اپنے گاؤں تکیل کی آبادی و حدود میں داخل ہونے کے بعد مقیم شمار ہوگا۔
2۔صورتِ مسئولہ میں اگر تبلیغی جماعت کا اپنے شہر یا قصبے سے باہر سوا ستتر کلو میٹر یا ا س سے زیادہ سفر کا اراد ہ ہو تو بیرونِ شہر تشکیل کی صورت میں قصر یا اتمام کا حکم یہ ہے کہ :اور اگر مختلف شہروں یا مختلف دیہاتوں میں تشکیل ہو اور کسی ایک شہر یا دیہات میں بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ دنوں کی تشکیل نہ ہو تو ایسی صورت میں جماعت والے مقیم نہیں ہوں گے، بلکہ مسافر ہوں گے اور قصر نماز پڑھیں گے۔
لہذا جب تبلیغی جماعت والوں کی تشکیل گاؤں تکیل ، بادیہ انور شاہ بانڈہ اور نور آباد بانڈہ ہو تی ہے، اور وہ مذکورہ تینوں مقامات میں ایک مقام پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ تک قیام نہیں کرتے،بلکہ تینوں مقامات میں سے ہر ایک مقام پر تین دن گزارتے ہیں،تووہ بھی مذکورہ مقامات میں مسافر شمار ہوں گے،اور تنہا یاامام بننے کی صورت میں ظہر،عصر اور عشاء کی فرض نمازوں میں قصر کریں گے۔
حاصل یہ ہے کہ فریقِ اول کا موقف درست ہے،اور فریقِ ثانی کا موقف درست نہیں ہے۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"قال: - رضي الله تعالى عنه - (وأقل ما يقصر فيه الصلاة في السفر إذا قصد مسيرة ثلاثة أيام) وفسره في الجامع الصغير بمشي الأقدام وسير الإبل فهو الوسط؛ لأن أعجل السير سير البريد، وأبطأ السير سير العجلة، وخير الأمور أوسطها، وهذا مذهب ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما -، وإحدى الروايتين عن ابن عمر - رضي الله تعالى عنهما."
(کتاب الصلاة، باب صلاۃ المسافر، ج:1، ص:235، ط:مطبعة السعادة - مصر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، ألا ترى أنه لو خرج إليه المسافر يقصر فلم يوجد الشرط " وهو نية الإقامة في موضع واحد خمسة عشر يوما " فلغت نيته، فإن نوى المسافر أن يقيم بالليالي في أحد الموضعين ويخرج بالنهار إلى الموضع الآخر فإن دخل أولا الموضع الذي نوى المقام فيه بالنهار لا يصير مقيما، وإن دخل الموضع الذي نوى الإقامة فيه بالليالي يصير مقيما، ثم بالخروج إلى الموضع الآخر لا يصير مسافرا؛ لأن موضع إقامة الرحل حيث يبيت فيه، ألا ترى أنه إذا قيل للسوقي أين تسكن؟ يقول في محلة كذا وهو بالنهار يكون بالسوق."
(کتاب الصلا ة، فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج:1، ص:98، ط:مطبعة الجمالية بمصر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان كل منهما أصلا بنفسه نحو مكة ومنى والكوفة والحيرة لا يصير مقيما وإن كان أحدهما تبعا للآخر حتى تجب الجمعة على سكانه يصير مقيما.
ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما بقريتين النهار في إحداهما والليل في الأخرى يصير مقيما إذا دخل التي نوى البيتوتة فيها، هكذا في محيط السرخسي، ولا يصير مقيما بدخوله أولا في القرية الأخرى، كذا في الخلاصة."
(کتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:140، ط:رشیدیه)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:
"ولا تصح نية الإقامة ببلدتين لم يعين المبيت بإحداهما" وكل واحدة أصل بنفسها وإذا كانت تابعة كقرية يجب على ساكنها الجمعة تصح الإقامة بدخول أيتهما وكذا تصح إذا عين المبيت بواحدة من البلدتين لأن الإقامة تضاف لمحل المبيت ۔۔۔
قوله: "لم يعين المبيت بإحداهما" أما إذا عينه بأن نوى أن يقيم الليل في إحداهما ويخرج بالنهار إلى الموضع الآخر فإذا دخل أولا الموضع الذي عزم على الإقامة فيه بالنهار لم يصر مقيما أي حتى يدخل الموضع الذي نوى المبيت فيه وإن دخل أولا الموضع الذي عزم على الإقامة فيه بالليل صار مقيما ثم بالخروج إلى الموضع الآخر لم يصر مسافرا لأن موضع إقامة المرء حيث يبيت فيه ألا ترى أنك إذا قلت لشخص أين تسكن يقول في محلة كذا وهو بالنهار يكون بالسوق نقله السيد عن العلامة مسكين."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ص:426، ط:دار الکتب العلمیہ بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144606100092
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن