
آٹھ مہینے پہلے میری بیٹی کو اس کے شوہر نے ان الفاظ سے ایک طلاق دی "میں طلاق دیتا ہوں" پھر شوہر نے رجوع کیا تھا اور اب چار پانچ دن پہلے ایک اور طلاق دی ان الفاظ کے ساتھ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" تو کیا ہم اسے الگ کر سکتے ہیں؟ اسی طرح اس کی ایک بچی ہے اس کا کیا حکم ہوگا ؟شوہر نشہ بھی کرتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب پہلی مرتبہ آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کو یہ الفاظ کہے تھے کہ "میں طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ کی وجہ سے آپ کی بیٹی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی اور صرف دو طلاقیں باقی رہ گئی تھیں، پھر شوہر کے رجوع کرنے کی وجہ سے نکاح باقی رہا، اس کے بعد جب دوبارہ آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کو یہ الفاظ کہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" تو اس کی وجہ سے دوسری طلاق واقع ہوگئی ،اب مجموعی طور پر آپ کی بیٹی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، البتہ آپ کے داماد کو بیوی کی عدت (تین مکمل ماہواریاں بشرطیکہ حمل نہ ہو) گزرنے سے پہلے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تو نکاح باقی رہے گا اور ساتھ رہنے کے لیے نیا نکاح نہیں کرنا پڑے گا، لیکن اگر عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے باہمی رضامندی سے نئے سرے سے باقاعدہ نکاح کرنا پڑے گا، بہرحال دونوں صورتوں میں آپ کے داماد کے پاس آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا ہے، اگر اب مزید ایک طلاق اور دے دی تو مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہونے کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ قائم ہوجائے گی اور پھر رجوع کر کے یا دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔
بہرحال موجودہ صورتِ حال میں اگر آپ کے داماد عدّت کے اندر رجوع کرلیتے ہیں تو چوں کہ نکاح قائم رہے گا اس لیے آپ لوگ یکطرفہ طور پر بیٹی کو الگ نہیں کرسکیں گے، لیکن اگر آپ کے داماد نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو چوں کہ عدت ختم ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جائے گا ،اس لیے نکاح ٹوٹنے کے بعد آپ کی بیٹی کی مرضی ہوگی کہ دوبارہ نیا نکاح کر کے سابقہ شوہر کے ساتھ رہے یا سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کے بجائے کسی دوسری جگہ نکاح کرلے، بچی کی مرضی کے بغیر سابقہ شوہر یکطرفہ طور پر تجدیدِ نکاح نہیں کرسکے گا۔
رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں، یہ قولی رجوع کہلاتا ہے، یا شوہر بیوی کے ساتھ زوجین والے تعلقات قائم کرلے ، یہ فعلی رجوع کہلاتا ہے، بہتر یہ ہے کہ قولی رجوع کرکے اس پر گواہ مقرر کرلیے جائیں۔
بچی کی کفالت (پرورش) سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ بچی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے،بشرطیکہ بچی کی والدہ دوسری جگہ بچی کے غیر محرم شخص سے شادی نہ کرلے، لیکن اگر والدہ نے کسی ایسے شخص سے شادی کرلی جو بچی کے لیے غیر محرم ہو تو والدہ کا حقِ پرورش ساقط ہوجائے گا اور بچی کی مقررہ عمر مکمل ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی نانی کو حاصل ہوگا، البتہ اگر نانی وفات پاگئی تو بچی مقررہ عمر پوری ہونے تک دادی کی پرورش میں رہے، بیٹی کی عمر نو سال ہونے کے بعد ان کی پرورش کا حق ان کے والد کو حاصل ہوجاتا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"و إذا طلق الرجل امرأته تطلييقةً رجعية أو رجعيتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة، 1/ 470، ط:رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، 3/ 397 ط:سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق،4/ 491،ط :رشیدیة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1/ 472، ط: دار الفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(تثبت للأم) ... (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة،3/ 555، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب ...(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة،3/ 566، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101014
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن