بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مختلف الجنس کرنسی کے ادھار تبادلے کا حکم


سوال

ہمارا کپڑے کا کاروبار ہے، ہم چین سے کپڑا منگواتے ہیں۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ ہمیں چینی کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم کرنسی کا کاروبار کرنے والے شخص سے رابطہ کرتے ہیں، مثلاً ہمیں دو لاکھ چینی کرنسی درکار ہوتی ہے، اور اس کا ریٹ  41 روپے طے ہوتا ہے۔ اس طرح کل رقم 8,200,000 روپے بنتی ہے۔
ہم ان میں سے 4,200,000 روپے فوراً ادا کر دیتے ہیں، اور باقی 4,000,000 روپے کی ادائیگی کے لیے ایک مدت مقرر کر لیتے ہیں، پھر مقررہ وقت پر وہ رقم بھی ادا کر دیتے ہیں۔

پوچھنا یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مذکورہ کرنسی کے تبادلے اور لین دین کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دو مختلف ممالک کی کرنسیاں باہم مختلف الاجناس کے حکم میں ہیں۔ لہٰذا دو مختلف کرنسیوں کی باہم خرید و فروخت کمی بیشی کے ساتھ نقد (ہاتھ در ہاتھ) کرنا جائز ہے، البتہ ادھار کا معاملہ جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ پاکستانی کرنسی کا کچھ حصہ موقع پر ادا کیا جاتا ہے اور باقی رقم کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ معاملہ درست نہیں۔اس معاملے کی درست صورت یہ ہوگی کہ دونوں جانب سے پوری کرنسی کی ادائیگی مجلسِ عقد ہی میں، ہاتھ در ہاتھ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء،".

(باب الصرف، ج:5، ص:257/259، ط:سعيد)

فتاوی بینات میں ہے:

"جس طرح حقیقی زر سونا اور چاندی کی بیع میں متحد الجنس ہونے کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، اسی طرح باتفاق علماء و اہل حق رائج الوقت کرنسی نوٹ، اور کاغذی سکہ میں بھی متحد الجنس و نوع کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، مثلاً ایک ڈالر کے عوض دو ڈالر کی بیع جائز نہیں ، ایک پونڈ کے عوض دو پونڈ کی بیع جائز نہیں ہے۔ علیٰ ہذا القیاس تمام ممالک کے کاغذی سکوں کا حکم ہے، ہر ملک کا سکہ الگ الگ جنس ثمن ہے ایک ملک کے مساوی سکہ میں تفاضل ربوا اور سود ہوگا، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں دو ڈالر ایک ریال کے بدلہ میں دو ریال،ایک پونڈ کے بدلہ میں دو پونڈ ایک روپیہ کے بدلہ میں دو روپیہ یا ایک روپیہ کچھ پیسے ۔لیکن مختلف ممالک کے سکے مختلف جنس کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس میں تفاضل جائز ہے ، اور ہوتا بھی یہی ہے، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں ۱۶؍روپے ایک ریال کے بدلہ میں چار روپے ، تاہم نقداً بنقدٍ ہونا ضروری ہے ادھار جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حقیقی ثمن سونا اور چاند ی کے حکم میں ہیں، لہٰذا مختلف ممالک کے سکوں کی جب ہوتو دست بدست ہونا ضروری ہے۔"

(کتاب الزکات، ج:2، ص:675، ط:مکتبہ بینات)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں