بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1448ھ 21 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مُجْرَفِیْ نام رکھنا کیسا ہے ؟


سوال

مُجْرَفِیْ نام رکھنا کیسا ہے ؟               

جواب

واضح رہے کہ  لفظ ”مُجْرَفِیْ“(بضم المیم وبفتح الراء) عربی قواعد کی رو سے ”اسمِ مفعول “کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں: ”وہ شخص جس کا مال و متاع زمانے نے چھین لیا ہو، جو فقر و فاقہ کی وجہ سے انتہائی دبلا اور لاغر ہو گیا ہو، یا جسے سیلاب کا ریلا بہا کر لے گیا ہو“۔

اگر اس کے مادہ (ج-ر-ف) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں کھرچنے، جڑ سے اکھاڑنے اور سب کچھ مٹا دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے وہ تند و تیز سیلاب جو زمین کی اوپر کی تہہ کو کھرچ ڈالے اور مکانات کی بنیادیں اکھاڑ دے۔

چونکہ اسلام میں ایسے نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے جن کے معنی بابرکت اور پسندیدہ ہوں، اور ایسے ناموں سے منع کیا گیا ہے جن میں بدفالی، ذلت یا کسی برائی کا پہلو نکلتا ہو، اس لیے ”مُجْرَفِیْ“ نام رکھنا شرعی اور لغوی اعتبار سے بالکل ناپسندیدہ اور نامناسب ہے۔ اس لفظ میں محرومی اور تباہی کا معنی غالب ہے، لہٰذا اس کے بجائے انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا اچھے معنی والے ناموں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

لسان العرب میں ہے :

"والجرف ما أكل السيل من أسفل شق الوادي والنهر، والجمع أجراف وجروف وجرفة، فإن لم يكن من شقه فهو شط وشاطئ. وسيل جراف وجاروف: يجرف ما مر به من كثرته يذهب بكل شيء، وغيث جارف كذلك. وجرف الوادي ونحوه من أسناد المسايل إذا نخج الماء في أصله فاحتفره فصار كالدحل وأشرف أعلاه، فإذا انصدع أعلاه فهو هار، وقد جرف السيل أسناده. وفي التنزيل العزيز: أم من أسس بنيانه على شفا جرف هار"

(فصل الجیم،ج:9،ص:25،ط: دار صادر بيروت)

 وفیہ ایضا:

"المجلف الذي ذهب ماله. ورجل مجلف: قد جلفه الدهر، وهو أيضا مجرف. والجالفة: السنة التي تذهب بأموال الناس. والمجلف الذي أخذ من جوانبه؛ قال الفرزدق:"

(فصل  الجیم،ج:9،ص:31،ط: دار صادر  بيروت)

معجم اللغة العربية المعاصرة میں ہے :

"ج ر ف:جرَّفَ يجرِّف، تجريفًا، فهو مُجرِّف، والمفعول مُجرَّف• جرَّف التُّرابَ: جرَفه، ذهب به كُلِّه أو معظمه "جرَّفتِ السيولُ الرِّمالَ والحصَى".• جرَّف الطِّينَ: كسحه بالمِجْرَفَة عن وجه الأرض.• جرَّف الأرضَ: كسح طبقتها العليا التُّرابيَّة لاستخدام النَّاتج في تصنيع الطُّوب الأحمر (مصريّة) "حرّمت الحكومة تجريف الأراضيی"

(فصل ج ر ف،ج:1،ص:364،ط:عالم الكتب)

تاج العروس من جواهر القاموس میں ہے :

"والمجرف، كمنبر: المجرفة. وبنان مجرف: كثير الأخذ للطعام، أنشد ابن الأعرابي: أعددت للقم بنانا مجرفا ومعدة تغلي وبطنا أجوافا وسيل جارف: يجرف ما مر به من كثرته، يذهب بكل شيء، وجيش جارف، كذلك.والمجرف، كمحدث: المهزول، كما في المحكم، ورجل مجرف: قد جرفه الدهر، أي: اجتحاح ماله وأفقره."

(فصل ج ر ف ،ج:23،ص:83،ط:دار احياء التراث)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711101505

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں