بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد نوح نام رکھنے کا حکم


سوال

میرا نام محمد نوح ہے ،میری عمر 18سال ہے ،یہ نام میرے والدین نے رکھا ،اس نام کا مطلب ہے رونے والا ، میں جب سے پیدا ہوا ہوں بیمار رہتا ہوں ،نیز میں طالب علم ہوں ،پوری محنت سے تیاری کرتا ہوں مگر امتحان میں نا کام ہو جاتا ہوں، تو کیا یہ سب میرے نام کی وجہ سے ہو رہا ہے ،مجھے اس بات پر یقین ہے ،سب لوگ بھی یہی کہتے ہیں ،تو کیا مجھے نام تبدیل کرنا چاہیے ؟اور کون سا رکھنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ  انبیاء علیہ السلام کے نام رکھنا باعث برکت ہے، صورت مسئولہ میں آپ کا نام محمد نوح بلا شبہ بابرکت اور شرعاً محمود ہے،اس لیے "محمد " تو اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے،اور "نوح "مشہور و معروف اللہ کے پیغمبر گزرے ہیں،پس آپ اپنے  نام کو تبدیل نہیں کریں۔

جہاں تک بات نوح کے معنی رونے کے ہیں ،تو یہ بات درست ہے اور نوح علیہ السلام کو بھی نوح کہنے کی وجہ تفاسیر میں منجملہ تفسیر در منثور اور تفسیر ابن کثیر میں یہ بیان کی  ہے کہ وہ اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے جب وہ ماننے سے انکار کرتے تو آپ کو تکلیف ہوتی  اور آپ خوب روتے،لہٰذا اللہ کی محبت میں یا عذاب کے خوف سے رونا بھی بڑی سعادت مندی ہے، دوم یہ کہ   اچھے نام کی ترغیب نیک فالی کے طور پر ہے،اور انبیاء اور  صحابہ کے نام میں نیک فالی ان کی شخصیات کے ساتھ ہے،پس اس صورت میں ان ناموں کے معنوں کو نہیں دیکھا جائے گا ،ایک موقع پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم نے ایک بچہ کا نام منذر رکھا ،کہ والد کے چچا کا نام منذر تھا اور وہ شہید ہوئے تھے ، بچہ بھی ان جیسا بن جائے اس کو دیکھتے ہوئے یہ نام رکھا ،پس  مقصود یہاں شخصیت تھی ، معنی نہیں تھا،نیز منذر  میں ایک اور نیک تفائل قرآن کی آیت  "فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة إلى قوله: ولينذروا قومهم"کی وجہ سےدین میں سمجھ کا بھی ہے ،کہ دین میں سمجھ رکھنے والے قوم کو اللہ سے ڈراتے ہیں ،پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کسی نام میں نیک فالی کا پہلو ہو تو اسی کو مد نظر رکھنا ہے،بد فالی لینا شرعاً مذموم ہے،پس اگر آپ کا نام نوح ہے تو ایک نیک فالی تو اس میں یہ ہے کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا نام ہے ،اور اگر رونے کے معنی میں بھی لیا جائے تو تفائل اس میں اللہ کا خوف اور دین کی فکر ہے نہ کہ دنیا کے غم ،پس سائل اپنے دل سے  اس نام سے متعلق بد فالی کو نکالے اور نیک فالی پر یقین کرے ،انشاء اللہ سائل بہت جلد اس کا فائدہ محسوس کریں گے۔

تفسیر الدرالمنثور میں ہے:

"وكان اسم نوح السكن وإنما سمي نوح السكن لأن الناس بعد آدم سكنوا إليه فهو أبوهم وإنما ‌سمي ‌نوحا لأنه ناح على قومه ألف سنة إلا خمسين عاما يدعوهم إلى الله فإذا كفروا بكى وناح عليهم."

(سورة الاعراف، ج:3، ص:480،ط:دارالفكر)

فتح الباری  میں ہے:

"قال هشام بن عروة فأخبرني أبي قال: لما قتل الذين ببئر معونة ... وأصيب فيهم يومئذ عروة بن أسماء بن الصلت ‌فسمي ‌عروة ‌به، ومنذر بن عمرو سمي به منذرا ... قوله: (فسمي عروة به) ... أي أن الزبير سمى ابنه منذرا باسم المنذر بن عمرو هذا، فيحتمل أن تكون الرواية بفتح السين على البناء للفاعل وهو محذوف والمراد به الزبير، أو المراد به أبو أسيد لما في الصحيحين أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بابن لأبي أسيد فقال: ما اسمه؟ قالوا: فلان، قال: بل هو المنذر. قال النووي في شرح مسلم: قالوا: إنه سماه المنذر تفاؤلا باسم عم أبيه المنذر بن عمرو، وكان استشهد ببئر معونة، فتفاءل به ليكون خلفا منه، وهذا مما يؤيد البحث الذي ذكرته في عروة."

(کتاب المغازی،باب غزوة الرجیع،ج:7،ص:391،ط:دار المعرفہ)

ارشاد الساری  میں ہے:

"ولكن (اسمه المنذر فسماه) عليه الصلاة والسلام (يومئذ المنذر) تفاؤلا أن يكون له علم ينذر به قاله الداودي ومثله قول الطيبي لعله عليه الصلاة والسلام تفاءل به ولمح إلى معنى التفقه في الدين في قوله تعالى: فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة إلى قوله: ولينذروا قومهم."

 

(کتاب الأدب،باب تحویل الإسم إلی إسم آخر،ج:9،ص:112،ط:المطبعہ الكبری الأميریہ)

حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ  میں ہے:

"‌‌‌‌ينبغي التسمية بأسماء الصالحين تفاؤلاً، وتحسين التسمية بتغيير الاسم القبيح؛ فالاسم الحسن سنة معروفة روى الإمام أحمد، وابن أبي شيبة، ومسلم، والترمذي عن المغيرة ابن شعبة رضي الله تعالى عنه قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى نجران، فقالوا: إنكم تقرؤون: يا اخت هارون وبين موسى وعيسى ما شاء الله من السنين، فلم أدر ما أجيبهم به حتى رجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم، والصالحين قبلهم. وروى ابن عساكر عن علي رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من قوم يكون فيهم رجل صالح فيموت فيخلف فيهم مولود فيسمونه باسمه إلا خلفهم الله تعالى بالحسنى. وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا الخير عند حسان الوجوه، وتسموا بخياركم، وإذا أتاكم كريم قوم فأكرموه."

(القسم الأول،باب التشبہ بالصالحین رضی اللہ عنہم،ج:2،ص:208،ط:دار النوادر)

شرح النووی علی صحيح مسلم  میں ہے:

"(إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين قبلهم) استدل به جماعة على جواز التسمية بأسماء الأنبياء عليهم السلام وأجمع عليه العلماء إلا ما قدمناه عن عمر رضي الله عنه وسبق تأويله وقد سمى النبي صلى الله عليه وسلم ابنه إبراهيم وكان في أصحابه خلائق مسمون بأسماء الأنبياء."

(کتاب الآداب،باب من يرد الله بہ خيرا يفقہہ فی الدين وإنما أنا قاسم والله يعطی،ج:14،ص:117،ط:دار إحياء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100771

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں